عدلیہ کا فعال کردار ہی معاشرے میں فوری اور سستے انصاف کا واحد ذریعہ ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل
لسبیلہ(این این آئی) چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ عدلیہ کی بہتری کیلئے پہلے بھی حکومتی تعاون رہی ہے اور اُمید ہے کہ آئندہ بھی حکومت اس سے انکار نہیں کرے گی کیونکہ عدلیہ کا فعال کردار ہی معاشرے میں فوری اور سستے انصاف کا واحد ذریعہ ہے وہ گزشتہ روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ حب میں لسبیلہ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے تقریب سے لسبیلہ کے صدر ایڈوکیٹ غلام رسول انگاریہ اور جنرل سیکرٹری ایڈوکیٹ عبدالوہاب بزنجو نے بھی خطاب کیا ،چیف جسٹس نے کہاکہ حکومت کے جن اداروں میں کام کی سمت درست نہیں وہاں صوبے کی اعلیٰ عدلیہ کو اختیا ہے کہ مداخلت کرکے سرکاری محکموں کی سمت کو درست کیا جائے جس طرح گزشتہ روز وندر RHCکے دورے پر جو حالت زار دیکھی گئی اس بارے مین سیکرٹری ہیلتھ بلوچستا ن سے رابطہ کیا گیا ہے کیونکہ عوام کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے انھوں نے کہاکہ سرکاری محکموں میں لیگل ایڈوائزر کی تعیناتی اپنوں کو ترجیجی دینے کے بجائے اگر میرٹ پر تعیناتی کی جائے تو کافی بہتر ئی لائی سکتی ہے انھوں نے لسبیلہ بار کیلئے اپنی جانب سے دو لاکھ روپے کی گرانٹ کا اعلان کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن لسبیلہ کو ہدایت دی کہ لسبیلہ بار کیلئے فوری طور پر ای لائبریری کا انتظام کیا جائے انھوں نے لائبریری کیلئے کتب کی فراہمی کی بھی یقین دہانی کرائی انھو ں نے کہاکہ لسبیلہ سمیت صوبے بھر کی عدالتوں میں مزید ججز کی تعیناتی اور ججز کے علاقہ وائز دائرہ اختیار کو بڑھانے کے معاملات زیر غور ہیں اور ان پرجلد عملدرآمد کیا جائے گا چیف جسٹس نے کہاکہ بارا ور بینچ کا انصاف کی فراہمی کیلئے کردار لازم وملزوم ہے انھوں نے کہاکہ صوبے بھر میں ججز کو سہولیات کی فراہمی انکے رہائشی بنگلوز اور جوڈیشنل کمپلیکس کی تعمیر کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں لیکن اسکے عو ض ڈیشنل افسران کی کارکردگی پر بھی اعلیٰ عدلیہ کڑی نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ عدالتی ادارے غریب مظلوم عوام کو انصاف کی فراہمی کیلئے بنائے گئے ہیں اور اگر کوئی آفیسر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتا ہے یا پھرپر کسی قسم کی کرپشن ہو رہی ہے تو اُسے کسی قیمت پر بخشا نہیں جائے گا انھوں نے کہاکہ حب کی خواتین وکلاء کیلئے علیحدہ ریسٹ ہوم کی فراہمی کی بھی یقین دہانی کرائی انھوں نے کہاکہ خضدار کے علاقہ سارونہ کے کیسز کو سارونہ سے پہلے حب اور پھر وڈھ لے جانے کے بجائے حب کی عدالت میں نمٹانے پر بھی غور کیا جائے گا اور کوئی مثبت راستہ نکالا جائے گا انھوں نے کہاکہ علاقے کی حدود کے لحاظ سے ججز کے اختیارات میں اضافے کے حوالے سے حب اور تربت میں یہ مسئلہ درپیش ہے اس پر بھی غور کیا جائے گا اور کوئی بہتر حل نکالا جائے گا اور اگر مزید ججز کی تعیناتی کی ضرورت پڑی تو مزید ججز مقرر کئے جائینگے جبکہ لسبیلہ میں لاء کالج کے قیام کے بارے مٰن گزشتہ روز انھوں نے لسبیلہ یونیو رسٹی اوتھل کے وائس چانسلر سے ملاقات کی ہے جس میں انھوں نے یقین دہانی کرائی ہے چیف جسٹس نے کہاکہ انھوں نے صوبے بھر کی تمام ماتحت عدالتوں سے کیسز کی تفصیلات طلب کی ہیں اور فی الوقت جو صورتحال سامنے آئی ہے اسکے مطابق کوئٹہ سریاب اور حب کی عدالتوں میں کافی کیسز ہیں انھوں نے ماتحت عدالتوں کے ججز کو ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ وہ کیسز کو فوری نمٹانے کی کوشش کریں اور یہی انکی کارکردگی کا آئنہ ہوگا انھوں نے کہاکہ وکلاء بھی تعاون کریں اور آئے روز بائیکات اور عدالتوں سے غیر حاضری سے اجتناب کریں تاکہ لوگوں کو فوری انصا ف مہیا کیا جاسکے انھوں نے کہاکہ ماڈل کورٹس کا قیام سپریم کورٹ کے حکم پر بنائے گئے ہیں اورماڈل کورٹس کے ججز دیگر عدالتوں کے کیسز بھی چلانے کے مجاز ہیں انھوں نے حب سیشن کورٹ میں توسیع سمیت ججز کالونی کیلئے ڈپٹی کمشنر کو سرکاری اراضی کی نشاندہی کرنے اور اراضی کی الاٹمنٹ کے بارے میں خصوصی ہدایت دی انھوں نے کہاکہ عدلہ کسی بھی قسم کے کرپشن کو برداشت نہیں کرے گی اور ججز کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جائے گا انھوں نے اوتھل اور بیلہ کی عدالتوں میں کافی عرصے سے التواء کا شکار کیسز کو بھی جلد از جلد نمٹانے کی ہدایت کردی انھوں نے کہاکہ قیدیوں کے کیسز کو فوری چلایا جائے کیونکہ تاخیر کی وجہ سے کئی قیدی کئی سالوں تک جیلوں میں پڑے رہتے ہیں لہٰذا انصاف سب کیلئے ہونا چاہئے انھوں نے لسبیلہ کی عدالتوں میں کلریکل اسٹاف کی خالی آسامیوں کو پُر کرنے کیلئے سیشن جج لسبیلہ کو ہدایت دی انھوں نے کہاکہ عدالتوں میں جوڈیشل آفیسر ز کی تعیناتی کیلئے اوپن میرٹ ہے عدلیہ میں کوئی کوٹہ نہیں ہوتا وکلاء آئیں اور اپنی قابلیت کی بنیاد پر جوڈیشنل آفیسر تعینات ہوجائیں کسی نے نہیں روکا چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ کو آرڈینشین کمیٹی کے ماہوار اجلاس کے حوالے سے ڈسٹرکٹ سیشن جج لسبیلہ کو ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ لسبیلہ سمیت پورے صوبے کے اضلاع کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججزماہوار اجلاس طلب کریں اور سرکاری محکموں سے رابطہ رکھیں اور اسپتالوں جیلوں و وزٹ بھی کریں اس موقع پر موجود تھے قبل ازیں لسبیلہ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب کے موقع پر چیف جسٹس ہائی کورٹ بلوچستان جمال خان مندوخیل نے بار ایسوسی ایشن کی جانب سے پیش کردہ سال 2020ء کا کیک کاٹ بعدازان انہیں بار ایسوی ایشن کے نائب صدر ایڈوکیٹ نظر بلو چ نے سال 2020ء کا کلینڈر پیش کیا ۔