بلوچستان میں بدترین مہنگائی ،بے روزگاری ، لاقانونیت غربت نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے ،عبد الحق ہاشمی

0 31

کوئٹہ( این این آئی)جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک کے عوام نے اپنافیصلہ ایسے لوگوں کے حوالے کیا ہے جو اپنی خواہش کے غلام ،قومی خیانت کے مرتکب اور عوامی مسائل سے لاتعلق ہیں ۔بلوچستان میں بدترین مہنگائی ،بے روزگاری ، لاقانونیت غربت نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے ۔الحمد اللہ جماعت اسلامی کے پاس دیانت دار دین دار قیادت اور اچھی ٹیم ہے ہم کرپٹ مافیا،غافل حکمران اور غلاف شریعت ہرپالیسی کے خلاف ہر فورم پر آوازبلند کرتے رہیں گے ۔ملک کو داخلی وخارجی چیلنجزسے نکالنے جماعت اسلامی ہی نکال سکتی ہے عوام نے جماعت اسلامی کا ساتھ دیا اور حقیقی اسلامی نظام نافذ کرکے لٹیروں ،قرضوں اور مسائل سے قوم کو نجات دلائیں گے ۔جماعت اسلامی کے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے صوبائی مجلس شوریٰ کے دوروزہ اجلاس سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں صوبہ بھر سے اراکین شوریٰ ،صوبائی ذمہ داران ہدایت الرحمان بلوچ ،بشیر احمدماندائی ، مولاناعبدالکبیرشاکر ،ڈاکٹر عطاء الرحمان ،زاہد اختر بلو چ،میر محمد عاصم سنجرانی اور برادرتنظیموں کے صوبائی ذمہ داران نے شرکت کی اجلاس میں برادر تنظیموں کے صوبائی ذمہ داران ،الخدمت فائونڈیشن کی سالانہ رپورٹ بھی پیش کی گئی مساجد ،مدارس وتعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی رپورت پیش ہوئی۔اجلاس میں بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے قراردادیں بھی منظور کی گئی ۔ اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیاگیا کہ بلوچستان میں حکومت نے گیس قلت ،پریشر میں کمی ،سڑکوں کی تعمیرسمیت دیگر ترقیاتی کاموں پر توجہ نہیں دی صوبے میں تعلیم وصحت کے ادارے عدم توجہی کی وجہ سے تباہ حال ہیں۔سخت سردی میں خواتین وبچے سمیت عوام گیس کے حصول کے حوالے سے پریشان ہیں موسم گرمامیں بجلی اور پینے کے پانی کے مسائل سے عوام پریشان ہوتے ہیں جبکہ سرمامیں گیس قلت ہمیشہ رہتی ہے حکومت کو سنجیدگی سے صوبے کے عوام کے دیرینہ مسائل کو دیانت واخلاص سے حل کرنا چاہیے ۔حکومت نے ایل پی جی اورپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ کرکے قوم کو نئے سال کا ’’تحفہ‘‘دیدیا ہے اس طرح کے تحفے نئی حکومت کے آنے سے روزانہ قوم کو مل رہے ہیں جوباعث تشویش اور ناکام حکمرانی کو ظاہر کررہی ہے حکومتی سطح پر سادگی قناعت کے دعوے کیے گیے مگر ہر طرف شاہ خرچیاں اور لوٹ مار جاری ہیں پچھلے سال حکومت نے 7بار پڑولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 30روپے کا اضافہ کیا ہے۔جس سے عوام کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے اگر حکمران عوام کو ریلیف فراہم نہیں کر سکتے تو مسائل میں اضافہ بھی نہ کریںپچھلاسال حکومتی ناکامیوں کا سال تھا عوام کو صاف پانی ، خالص اشیاء ، صحت کی بنیادی سہولت ، ملاوٹ سے پاک چیزیں، لاقانونیت ، عوام کو عدم تحفظ اور اس طرح کے ان گنت مسائل درپیش ہیں ۔معاشرے کی اجتماعی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتے ہوئے لوگوں کا معیار زندگی بہتربنایا جائے، یہ ہی اصل تبدیلی کی بنیاد ہے نئی حکومت کوبلوچستان کامعاشی آئینی حقوق دینا ہوں گے۔ حکمرانوں کے پاس زبانی کلامی اقدامات اور دکھاوے کے سواکچھ نہیں۔ بلوچستان کاحکمرانوں کے سواہر طبقہ شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا ہر شخص پریشان حال ہے ضرورت اس امر ہے کہ حکمران اپنی اصلاح کرتے ہوئے رویوں میں مثبت تبدیلی لائیںاورمخلص ہوکر ملک و قوم کی خدمت کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.