آر ڈینسز لانے کے خلاف درخواست ، ہائی کورٹ کا سیکرٹری قانون کو نوٹس ، دوہفتوں میں جواب طلب
اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کے 8 آرڈیننسز لانے کے خلاف دائر متفرق درخواست پر سیکریٹری وزارت قانون کو نوٹس جاری کر کے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا جبکہ عدالت عالیہ نے رضا ربانی، ایڈووکیٹ مخدوم علی خان، ڈاکٹر بابر اعوان اور عابد حسن منٹو عدالتی معاونین مقرر کر دیا ۔ جمعہ کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے درخواست پر سماعت کی۔ دور ان سماعت عدالت نے سیکریٹری وزارت قانون کو نوٹس جاری کر کے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے رضا ربانی، ایڈووکیٹ مخدوم علی خان، ڈاکٹر بابر اعوان اور عابد حسن منٹو عدالتی معاونین مقرر کر دیا ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عدالتی معاونین کو عدالت میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں انہوںنے کہاکہ معاونین کو سوالات بھیج دیے جائیں گے اور وہ ان پر عدالتی معاونت کر دیں۔ وکیل نے کہاکہ حکومت نے ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود کوئی جواب عدالت میں جمع نہیں کرایا۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیاکہ کیا وہ سارے آرڈیننسز واپس نہیں لے لیے گئے۔ وکیل درخواست گزار نے کہاکہ حکومت نے جواب جمع نہیں کرایا اور آرڈیننسز جاری کیے جا رہے ہیں۔ وکیل درخواست نے استدعا کی کہ عدالت حکومت کو جواب جمع کرانے کا حکم دے۔وکیل نے استدعا کی کہ حکومتی جواب آنے تک عدالت حکومت کو نئے آرڈیننسز جاری کرنے سے روکے۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ ابھی کیا نیا آرڈیننس آیا ہے۔ محسن شاہنوازرانجھا ایڈووکیٹ نے کہاکہ نیب آرڈیننس آیا ہے، جس میں ٹیکس اور کسٹم کے معاملات نیب سے نکال دیے گئے ہیں، ماضی میں نیب سیاسی انتقام کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔وکیل محسن شاہنواز رانجھا نے کہاکہ ہم نیب کے قانون میں ترمیم کے لئے بل پارلیمنٹ میں لانے کے لئے تیار کر رہے تھے ۔انہوںنے کہاکہ حکومت آرڈیننس لے آئی، اب اس سے ایک بار پھر ادھوری قانون سازی ہو گی۔