
کوئٹہ(این این آئی ) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ چلڈرن ہسپتال غریب عوام سے زیادہ فیس وصول کرنا نا انصافی ہے صوبے کے غریب عوام دور دارز علاقوں سے مذکرہ ہسپتال آتے ہیں جنہیں کوئٹہ میں رہائش کھانے پینے کے اخراجات اْٹھانے پڑتے ہیں حکومت وقت کو عوامی حکومت کا ثبوت دیتے ہوئے فوری طور پر چلڈرن ہسپتال میں خود ساختہ فیسوں کے اضافے کا نوٹس لینا چاہیے پی ایم اے کوئٹہ زون بلوچستان چلڈرن ہسپتال میں وصول کی جانے والی بھاری فیسوں کی شدید الفاظ میں مخالفت کرتی ہے۔ کیونکہ بلو چستان چلڈرن ہسپتال اب حکومت کی پراپرٹی ہے لہذا صوبائی حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کو مفت صحت کی سہولیات فراہم کریں اور مذکورہ ہسپتال میں بھی فیسیں دیگر سرکاری ہسپتالوں کے برابر وصول کی جائیں۔ ہمیں تشویش ہے کہ ملک بھر میں اس طرز پر کْل 3 چلڈرن ہسپتال قائم ہو ئے تھے ملتان اور لاہور میں قائم ہونے والے چلڈرن ہسپتالوں نے اتنی ترقی کی کہ وہاں کینسر تک کا علاج مفت ہو رہا ہے وہ انسٹیٹوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کا درجہ پا چکے اور وہاں پوسٹ گریجویٹ کورسز کروا ئے جاتے ہیں۔جبکہ کوئٹہ میں ابھی تک اس کو باضابطہ اداریکا درجہ تک نہیں مل پایا۔اور صوبہ کے غریب اور نادار عوام کو صحت کی بہتر سہولت سے محروم رکھا گیا۔ پی ایم اے کوئٹہ ذون وزیراعلیٰ بلوچستان چیف سیکرٹری اور سیکرٹری صحت سے اپیل کرتی ہے کہ وہ صوبہ کے عوام کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے بچوں کے امراض کے علاج کے لئے قا ئم شدہ اپنی طرز کے واحد ہسپتال کے لیے جلد از جلد ریگولر آسامیاں مشتھر کرنے کے ساتھ ساتھ ادارے کے لیے ریگولر فنڈز کا اجراء کرے۔ کیونکہ موجودہ گرانٹ اس ادارے کو چلانے کے لیے ناکافی ہے




