
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت کا ایک حلقہ سیاست دانوں اور فوج کو آپس میں لڑانا چاہتا ہے لیکن فوجی قیادت واضح کرے جو لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں وہ ان کے ترجمان ہیں تو پھر میں بھی جواب دینے کا حق رکھتا ہوں۔
سکھر میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے فوری بعد میرے خلاف بیان آنے سے ثابت ہوگیا ہے کہ تیر نشانے پر ٹھیک جالگا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت کے کچھ گماشتے آئے روز ایک بیان دیتے ہیں کہ فلاں سیاست دان کی خفیہ ملاقات آرمی چیف سے ہوئی، اس میں کبھی میرا تذکرہ ہے اور کبھی کچھ اور لوگوں کا تذکرہ ہے، ملاقات کرنا اور اس کو خفیہ رکھنا ان کی ضرورت ہے ہماری نہیں ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘اس قسم کی چیزیں عوام کے سامنے لانے سے ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ سیاست دانوں کا رویہ نرم ہے، اگر انہوں نے کہا کہ آئیں ہم آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے انکار نہیں کیا لیکن جب ایجنڈا سامنے آئے تو ہمارا کام ہے کہ اس کو قبول کریں یا مسترد کریں’۔




