چوہدری یٰسین بنام ابرار قریشی کیس ہرجانے کی ادائیگی پر برطانوی قانون کیا کہتا ہے

22

تحریر: سردار جنید ظفر
گزشتہ دنوں برطانوی عدالت میں ایک اہم مقدمے چوہدری یٰسین بنام ابرار قریشی کیس کا فیصلہ دا گیا جس میں عدالت نے صحافی ابرار قریشی کو چوہدری یٰسین کی ہتک عزت کرنے کی پاداش میں دونوں مدعا علیہم کو ہرجانے، خرچہ مقدمہ اور سود کی مد میں مجموعی طور پر 368658پاونڈز ادا کرنے کا حکم دیا جو پاکستانی کرنسی میں تقریبا 14 کروڑ روپے بنتے ہیں عدالت نے واضح طور پر یہ حکم بھی دیا کہ یہ تمام رقوم 8 اگست 2025 شام 4 بجے تک ادا کی جائیں گی۔ یاد رہے کہ مدعا علیہ ابرار قریشی نے نومبر 2021 میں یوٹیوب و فیس بک پر کچھ ویڈیوز جاری کیں جن میں مدعیان پر جنسی زیادتی، بلیک میلنگ، بدعنوانی، زمین پر قبضے، سرکاری وسائل کے غلط استعمال وغیرہ کے الزامات لگائے گئے یہ الزامات دراصل چوہدری یٰسین کے سابق ملازم محمد سبیل کے انٹرویو پر مبنی تھے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ یہ الزامات جھوٹ پر مبنی بے بنیاد اور بدنیتی پر مشتمل تھے۔عدالت نے مدعا علیہ کو ان تمام ویڈیوز اور بیانات کی مزید اشاعت سے سختی سے روک دیا اور 7 دن میں اپنے تمام سوشل میڈیا چینلز پر عدالتی فیصلے کا خلاصہ جاری کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس بات میں شبہ نہیں کہ ابرار قریشی ایک اچھی ساکھ کے حامل صحافی ہیں اور ان کی سوشل میڈیا پر اچھی خاصی فین فالوؤنگ ہے لیکن اس معاملے میں وہ کیسے مار کھا گئے یہ ہر کوئی جو انہیں جانتا ہے اس کیلئے سوالیہ نشان ہے شاید وہ کچھ زیادہ ہی پراعتماد ہو گئے تھے یا ان کے وکلاء نے انہیں کچھ زیادہ ہی پرا مید کردیا تھا۔ چوہدری یٰسین اچھے ہیں یا برے یہ الگ بحث ہے لیکن انہوں نے سیاست کی پرخطر وادی میں اپنا جو مقام بنایا ہے وہ انتہائی مشکل سے دن رات محنت کرکے بنایا ہے آج ان کا شمار آزادکشمیر کے چند گنے چنے سیاستدانوں میں ہوتا ہے اور وہ شاید ان تین چار لوگوں میں شامل ہیں جو اس وقت وزارت عظمیٰ کی لائن میں لگے ہوئے ہیں اور کسی بھی وقت قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہو سکتی ہے ایسے میں ان کے ایک سابق ملازم کا انٹرویو جس میں ان پر اس قدر واہیات اور سنگین الزامات لگائے گئے تھے ان کی سیاسی پوزیشن کے ساتھ ساتھ اخلاقی پوزیشن کیلئے بھی ایک بہت بڑا چیلنج تھا انہیں اس بات کا بھی خدشہ تھا کہ ان الزامات کے پیچھے کہیں ان کے سیاسی مخالفین نہ ہوں جو ہر وقت انہیں نیچے گرانے کی منصوبہ بندی میں لگے رہتے ہیں اور ویسے بھی ابرار قریشی کا تعلق ان کے اپنے علاقے سے تھا اس لئے اس خدشے کو تقویت مل رہی تھی اس لئے ان الزامات کا مقابلہ کرنے کیلئے انہوں نے برطانوی عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا اور 2021 میں ابرار قریشی کے خلاف لندن کی ہائیکورٹ آف جسٹس میں ڈیفامیشن کے قانون کے تحت سول دعویٰ دائر کردیا جس کا فیصلہ 25 جولائی2025 کو سنایا گیا. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابرار قریشی کو جو اتنی بڑی رقم کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے کیا واقعی وہ یہ رقم ادا کریں گے یا یہ محض ایک کاغذی فیصلہ ہے اور ایک سول دعویٰ ہونے کی وجہ سے اس کا اطلاق سختی سے نہیں ہوگا کیونکہ یہ فیصلہ آئے پانچ دن ہو چکے ہیں اور ابھی تک ابرار قریشی کے تمام سوشل میڈیا چینلز پر اس فیصلے کا خلاصہ جاری نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی پرانے انٹرویوز ہٹائے گئے ہیں اس کا مطلب یہی ہے کہ ابرار قریشی اس فیصلے کو اہمیت دینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ اس کیس سے جڑا ہر شخص خواہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں بیٹھا ہے یہ جاننا چاہتا ہے کہ اب کیا ہو گا۔ کیا ابرار قریشی کو اتنی بڑی رقم دینا پڑے گی یا پھر اس فیصلے کو پاکستان کی عدالتوں کے فیصلے کی طرح ہوا میں اڑا دیا جائے گا۔ جہاں تک رقم کی بات ہے کہ اس حوالے سے برطانوی قوانین کیا کہتے ہیں اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
جب کوئی عدالت خاص طور پر برطانیہ جیسے ملک کی عدالت ہتک عزت یا کسی اور دیوانی مقدمے میں مالیاتی جرمانہ عائد کرتی ہے تو یہ محض ایک عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری اور قانون کی بالادستی کا اعلان ہوتا ہے اور مدعا علیہ کو عدالت پابند بناتی ہے کہ اس کے جس قدر اثاثے ہیں وہ بیچ کر وہ یہ جرمانہ ادا کرے اگر اس دوران وہ جان بوجھ کر اپنے بینک اکاؤنٹس سے رقم نکال لے یا اسے چھپا دے یا اپنے نام پر موجود کوئی جائیداد فروخت کردے یا کسی اور کے نام منتقل کردے تو وہ فراڈ اور دھوکہ دہی کے ساتھ ساتھ توہین عدالت کا مرتکب بھی ہو جاتا ہے جو تعزیراتی یعنی فوجداری جرائم ہیں اور اگر یہ ثابت ہو جائیں تو پھر ایسے شخص کو جیل بھی ہو سکتی ہے اگر مدعا علیہ عدالتی حکم کے بعد جان بوجھ کر اپنی مالی حیثیت چھپاتا ہے یا اثاثہ جات منتقل کرتا ہے تو یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کی سزا قید، جرمانہ، یا دونوں ہو سکتی ہے۔ عدالت یہ تاثر برداشت نہیں کرتی کہ اس کے فیصلے کو دھوکہ یا چالاکی سے غیر مؤثر بنایا جائے۔ بعض لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ لاکھوں ملین پاونڈز کرمانہ ہونے کے بعد جب عدالت میں جاکر مدعا علیہ یہ جواز پیش کرے گا کہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو عدالت اس ہرجانے کی ادائیگی دس پاؤنڈ ماہانہ کردے گی تو یہ تاثر بھی غلط ہے کیونکہ قانون بالکل واضح ہے کہ اگر مدعا علیہ یا جس شخص پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے اس کی مالی حالت فیصلہ آنے سے پہلے ٹھیک تھی اور اس کی آمدنی مناسب تھی تو وہ کبھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ اب مفلس ہو گیا ہے اور رقم ادا نہیں کرسکتا بلکہ پہلے اس کے نام پر موجود اثاثہ جات اور بنک اکاؤنٹ میں موجود رقم مدعیان کو دلائی جائے گی پھر اس کی ماہانہ آمدنی سے ایک معقول رقم ہر ماہ ادا کی جائے گی۔ اس صورت میں مدعی یا اس کا وکیل، عدالت سے فوری طور پر Freezing Order حاصل کر سکتا ہے جس کے تحت مدعا علیہ کے تمام اثاثے منجمد کر دیے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ عدالت مدعا علیہ کو پابند کر سکتی ہے کہ وہ اپنی مالی تفصیلات مکمل طور پر ظاہر کرے اگر وہ ایسا نہ کرے تو یہ بھی جرم ہے۔عدالت کا فیصلہ آ جانے کے بعد رقم چھپانا یا اکاؤنٹ خالی کرنا، کوئی چالاکی نہیں بلکہ ایک قانونی جرم ہے۔ ایسی حرکت قانون کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے، اور قانون ایسے رویوں کے خلاف نہ صرف سخت موقف رکھتا ہے بلکہ مثالی سزائیں بھی سناتا ہے تاکہ آئندہ کسی کو عدلیہ کو کمزور کرنے کی ہمت نہ ہو۔

Comments are closed.