
کوئٹہ : دشت گوران کے خونی تنازعہ میں سناڑی کے ثالثین میر اسد اللہ بلوچ، انور ساجدی اور میر ضیاء اللہ لانگو نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ مینگل قبیلہ کے ایک جرگہ میں دعویٰ کیا گیا کہ جرگہ اراکین نے اراضی کا فیصلہ زگر مینگل کے حق میں کردیا ہے۔ یہ دعویٰ یک طرقہ غیر متفقہ اور غیر منصفانہ ہے، یہ زگر مینگل کے ثالثین کی رائے ہوسکتی ہے کوئی متفقہ فیصلہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ زگر مینگل کے ثالثین کی جانب سے فیصلہ نہایت افسوسناک، یکطرفہ جانبدارانہ اور ناانصافی پر مبنی ہے۔ سناڑی زہری کے جرگہ ممبران نے کہا کہ فریق مخالف کے ثالثین نے جو رائے دی ہے وہ ایک سرداری حکم تو ہوسکتا ہے لیکن کوئی فیصلہ نہیں۔ اس سے بلوچستان کی دیرینہ روایات کی پامالی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دشت گوران کے خونی تنازعہ کے حل کے لئے تشکیل کردہ جرگہ کا ممبر بننا اس لئے قبول کیا کہ اس خونریز تصادم کا فیصلہ حق و انصاف کی بنیاد پر ہوجائے چنانچہ ہم نے جرگہ میں شرکت کے بعد کافی تگ و دو کی، دشت گوران کا دورہ کیا۔ فریقین کا نکتہ نظر سنا جبکہ علاقہ کے لوگوں سے تفصیلی معلومات حاصل کیں اس کے بعد ہماری کئی نشستیں سراوان ہاوس میں ہوئیں، دستاویزات اور ثبوتوں کا جائزہ لیا گیا، کافی نشستوں کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ دونوں فریقین میں سے کسی کے پاس بھی ٹھوس دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہیں۔ شروع میں زگر مینگل کے نمائندوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں دشت گوران کی اراضی ریاست قلات یعنی خان آف قلات کی طرف سے ملی ہے تاہم جب زگر مینگل کے نمائندوں اور ثالثین سے کہا گیا کہ وہ اس خان قلات کی سند پیش کریں جس کے دور میں یہ اراضی زگر مینگل کو دی گئی تھی۔ انہوں نے مہلت مانگی لیکن اگلی نشست میں وہ مذکورہ سند پیش کرنے میں ناکام رہے۔ جرگہ کی اگلی نشست میں زگر مینگل کے نمائندوں نے اپنے سابقہ دعووں کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ دشت گوران ان کی پدری میراث ہے اور یہ خان قلات کی طرف سے نہیں ملی ہے۔ اس طرح ملکیت کا ان کا دعویٰ باطل ہوگیا۔ دوسری جانب سناڑی کا موقف تھا کہ کم از کم چار سو سال سے اس زمین پر آباد ہیں لہٰذا زمین پر انہی کا حق ہے۔ ہم نے کوشش کی کہ کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے تاکہ کوئی متفقہ فیصلہ عمل میں آئے اسی لئے ہم نے تحریری تجویز پیش کی کہ چونکہ زگر مینگل نے سناڑی کو خارج کیا ہے اس لئے زمین نصف نصف تقسیم کی جائے۔ مقام افسوس ہے کہ زگر مینگل کے ثالثین نے اس فیصلہ کو قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد ہم نے زگر مینگل کے ثالثین کو یہ تحریری تجویز دی کہ اگر آپ لوگ متفقہ فیصلہ پر نہیں آرہے تو فریقین کو عدالت سے رجوع کرنے کا حق دیا جائے لیکن زگر مینگل کے ثالثین نے اس کا بھی کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اتوار کے اخبارات میں یہ پڑھ کر حیرت ہوئی کہ مینگل قبائل کے ایک جرگہ نے نواب رئیسانی کا یہ فیصلہ پڑھ کر سنایا کہ جرگہ نے زگر مینگل کے حق میں فیصلہ دیا ہے جو کہ غلط اور غیر سنجیدہ ہے۔ یہ جرگہ کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ ایک فریق کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ افسوس کہ زگر مینگل کے ثالثین غیر جانبدار رہنے کی بجائے فریق بن گئے جو بلوچستان کی قبائلی روایات میں اس طرح کا پہلاواقعہ ہے۔ لہٰذا ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ اس جانبدارانہ اور غیر منصفانہ عمل کے بعد ہم ہر چیز سے بری الذمہ ہیں اور زگر مینگل کے ثالثین نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے نتائج کے وہی ذمہ دار ہیں۔ آج کے بعد ہمارا دونوں فریقین کے کسی عمل اور کارروائی سے تعلق نہیں۔




