طالبان نے ہرات شہر کا محاصرہ کرلیا : اقوام متحدہ کے دفتر پر دستی بم حملہ، اہلکار ہلاک، متعدد زخمی

کابل : طالبان نے افغانستان کے تیسرے بڑے شہرہرات کا محاصرہ کرلیا۔ شہر میں اقوام متحدہ کے دفتر پرحملہ کیاگیا ،جس سے 1اہلکار ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے ۔ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کے بھی کئی علاقوں پر طالبان قابض ہوگئے ۔جمعہ کو ہرات میں شدید لڑائی کے بعد طالبان نے شہر کے داخلی دو اضلاع کروخ اور گذرہ پر قبضہ کرلیا ۔ حملوں کے بعد شہر کے خواجہ عبد اللہ انصاری بین الاقوامی ہوائی اڈے کو تمام پروازوں کیلئے بند کردیاگیا۔دواہم پل تباہ کرنے کے بعد شہر کا ملک بھر سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا۔گذرہ میں کارروائی کے دوران طالبا ن نے افغان فوج کے کمانڈر کرنل حامد کو متعدد فوجیوں سمیت گرفتار کرلیا۔جمعہ کی سہ پہرہرات میں اقوام متحدہ کے دفتر پر گرنیڈ اور راکٹ سے حملہ کیاگیا ،عالمی ادارے کے مطابق یہ حملہ حکومت مخالف عناصر کی جانب سے واضح طور پر نظر آنے والی عالمی ادارے کی عمارت کے داخلی حصے پر کیاگیا،عالمی ادارے کا کوئی ملازم اس میں ز خمی نہیں ہوا،طالبان نے حملے کو کراس فائر کا نتیجہ قراردیا۔رات گئے امریکی فوج نے ہرات کے نواحی علاقے میں طالبان پر بمباری کی ،ادھر ہلمند کے دار الحکومت لشکرگاہ پر قبضے کیلئے طا لبان کی افغان فوج سے شدید جھڑپیں جاری ہیں،سرکاری عہدیدار کے مطابق طالبان نے شہرپر کئی اطراف سے حملہ کیاہے ،شہر سے بڑی تعداد میں آبادی کا انخلا جاری اور ہو کا عالم ہے ۔صوبائی کونسل کے رکن عبدالماجد اخونزادہ نے بتایا کہ طالبان نے لشکر گاہ کے متعدد علاقوں پر قبضہ کرلیاہے ،ایئر پورٹ کے قریب شدید جھڑپیں جاری ہیں،انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ شہر جلد طالبان کے ہاتھ میں جا سکتا ہے ۔ رات گئے آنیوالی اطلاعات کے مطابق طالبان شہر کے پولیس ہیڈکوارٹرز کے پاس پہنچ چکے ہیں۔دوسری جانب افغان میڈیاکے مطابق امریکی فوج نے کابل کے گرین زون میں شش درک کے علاقے میں واقع سی آئی اے کی سب سے بڑی بیس بھی افغان فوج کے حوالے کردی ، یہ بیس جمعرات کو رات گئے افغان حکام کو بتائے بغیر خالی کی گئی ۔یہ بیس افغانستان میں امریکی فوج کے ہیڈ کوارٹرز کے طور پر کام کرتی تھی۔افغان حکام کے مطابق بگرام بیس کی طرح یہ بیس بھی رات کے اندھیرے میں بغیر بتائے خالی کی گئی ۔ ادھرافغانستان میں اقوام متحدہ کے دفتر پر حملہ کی پاکستان نے شدید مذمت کی اور گہر ی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہماری دعائیں حملے کے متاثرین کے ساتھ ہیں۔ شہریوں ، بین الاقوامی تنظیموں کو ہدف بنانا عالمی اقدار کے منافی ہے ۔ اس قسم کے حملے ناقابل قبول ہیں۔




