• آج کا اخبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • شوبز
  • بین الاقوامی
  • بلوچستان
  • پاکستان
  • اہم خبریں
Daily Shal Quetta NewsPaper
No Result
View All Result
No Result
View All Result
Daily Shal Quetta NewsPaper
No Result
View All Result

جعلی اکائونس کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے لیاقت قائمخانی کی اثاثوں کی انکوائری رپورٹ طلب کر لی

web desk by web desk
March 31, 2020
in اہم خبریں, پاکستان
0
جعلی اکائونس کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے لیاقت قائمخانی کی اثاثوں کی انکوائری رپورٹ طلب کر لی

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس کے ملزم سابق ڈی جی پارکس کراچی لیاقت قائمخانی کی اثاثوں کی انکوائری رپورٹ طلب کر لی جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ ملزم تعاون نہیں کرتا پھر بھی نیب نے بار ثبوت ملزم کو منتقل کرنے کے لیے ریکارڈ سے ثابت کرنا ہے۔ منگل کواسلام آباد ہائیکورٹ نے لیاقات قائمخانی کی آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کیا ۔عدالت نے سابق ڈی جی پارکس کے اثاثوں کی انکوائری رپورٹ طلب کر تے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کردی ۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا لیاقت قائمخانی کیخلاف ریفرنس دائر ہوْچکا، اب کیوں گرفتار رکھنا چاہتے ہیں؟کیا ملزم لیاقت قائم خانی کے اثاثوں کی مالیت کا جائزہ لیا؟ جس پر نیب تفتیشی نے کہا کہ لیاقت قائمخانی کے اثاثوں کی تحقیقات جاری ہیں ، لیاقت قائمخانی سے دو کلو سونا ملا ، وہ اٹھائیس پلاٹس کے مالک بھی نکلے ہیں، کچھ پلاٹ لیاقت قائم خانی کی بیٹی اور کچھ بھتیجے طاہر کے نام پر ہیں، لیاقت قائم خانی کے بھتیجے اور بیٹی تفتیش میں تعاون نہیں کررہی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ لیاقات قائمخانی کو نیب نے آئیکون ٹاور کیس میں گرفتار کیا تھا، اثاثوں کے کیس میں احتساب عدالت نے دوبارہ گرفتاری کی اجازت نہیں دی تھی، جبکہ آئیکون ٹاور کیس کے اصل بینفشری کو نہ کبھی گرفتار کیا گیا نہ ہی وہ عدالتی نوٹس پر پیش ہوتے ہیں، جس پر نیب نے کہا کہ لیاقت قائمخانی نے جس کمپنی کو زمین الاٹ کی اس کے مالک ڈاکٹر ڈنشاہ کو گرفتار کیا تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا لیاقت قائم خانی نے وہ زمین کسی کے حوالے کرنے کا کوئی آرڈر کیا تھا؟ وکیل درخواست گزار بولے جب زمین پر قبضہ ہوا تو اس وقت لیاقت قائمخانی ریٹائر ہوچکے تھے، جبکہ نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ زین ملک کی پلی بار گین کی درخواست آئی وہ چل رہی ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملک ریاض نے تو پلی بار گین نہیں کیا ان کا کیا اسٹیٹس ہے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملک ریاض کیخلاف تفتیش چل رہی ہے، جبکہ کیس کے تفتیشی بولے ملزم لیاقت علی قائم خانی نے کبھی ٹیکس گوشوارے نہیں جمع کرائے، بے نامی کمپنی کا ٹیکس ریکارڈ ابھی تک نہیں ملا، چیف جسٹس نے کہا کہ جس کمپنی کے نام پر اثاثے ہیں نیب نے اس کمپنی ٹیکس ریکارڈ کیوں حاصل نہ کیا، ریفرنس دائر ہونے کے بعد ملزم کو آپ کیسے جیل میں رکھ سکتے ہیں؟ جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ نیب نے ان پلاٹس کی فروخت پر تاحال پابندی کیوں نہیں لگائی؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم لیاقت قائم خانی تفتیش میں تعاون نہیں کررہا، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ملزم تو نیب کو کچھ نہیں بتائے گا مگر ریکارڈ تو نیب نے حاصل کرنا تھا، ٹرائل مکمل ہونے سے پہلے جیل میں رکھ ملزم کو سزا دینے کے مترادف ہے، نیب نے ابھی تک ایف بی آر اور کسی دوسرے ادارے سے ملزم کا ریکارڈ تک حاصل نہیں کیا، نیب پراسیکیوٹر بولے کہ اثاثہ جات ریفرنس میں گرفتار کرنا ہے کیوں کہ لیاقت قائم خانی تعاون نہیں کررہا، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ گاڑیاں اور پلاٹس برآمد ہوگیا تب بھی نیب پر بار ثبوت ہے تاہم عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

Previous Post

سینیٹر رحمان ملک کا حکومت سے نگران کمیٹی ،ہیلتھ ایمرجنسی و لاک ڈاؤن کا مطالبہ

Next Post

وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں کے پانچویں اور آٹھویں کے مرکزی امتحانات کے نتائج کا اعلان 6 اپریل کو ہو گا

Next Post
وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں کے پانچویں اور آٹھویں کے مرکزی امتحانات کے نتائج کا اعلان 6 اپریل کو ہو گا

وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں کے پانچویں اور آٹھویں کے مرکزی امتحانات کے نتائج کا اعلان 6 اپریل کو ہو گا

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • کالمز
  • آج کا اخبار
  • کھیل
  • شوبز
  • بین الاقوامی
  • بلوچستان
  • پاکستان
  • صفحہ اول

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.

No Result
View All Result

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.