اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس کے ملزم سابق ڈی جی پارکس کراچی لیاقت قائمخانی کی اثاثوں کی انکوائری رپورٹ طلب کر لی جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ ملزم تعاون نہیں کرتا پھر بھی نیب نے بار ثبوت ملزم کو منتقل کرنے کے لیے ریکارڈ سے ثابت کرنا ہے۔ منگل کواسلام آباد ہائیکورٹ نے لیاقات قائمخانی کی آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کیا ۔عدالت نے سابق ڈی جی پارکس کے اثاثوں کی انکوائری رپورٹ طلب کر تے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کردی ۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا لیاقت قائمخانی کیخلاف ریفرنس دائر ہوْچکا، اب کیوں گرفتار رکھنا چاہتے ہیں؟کیا ملزم لیاقت قائم خانی کے اثاثوں کی مالیت کا جائزہ لیا؟ جس پر نیب تفتیشی نے کہا کہ لیاقت قائمخانی کے اثاثوں کی تحقیقات جاری ہیں ، لیاقت قائمخانی سے دو کلو سونا ملا ، وہ اٹھائیس پلاٹس کے مالک بھی نکلے ہیں، کچھ پلاٹ لیاقت قائم خانی کی بیٹی اور کچھ بھتیجے طاہر کے نام پر ہیں، لیاقت قائم خانی کے بھتیجے اور بیٹی تفتیش میں تعاون نہیں کررہی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ لیاقات قائمخانی کو نیب نے آئیکون ٹاور کیس میں گرفتار کیا تھا، اثاثوں کے کیس میں احتساب عدالت نے دوبارہ گرفتاری کی اجازت نہیں دی تھی، جبکہ آئیکون ٹاور کیس کے اصل بینفشری کو نہ کبھی گرفتار کیا گیا نہ ہی وہ عدالتی نوٹس پر پیش ہوتے ہیں، جس پر نیب نے کہا کہ لیاقت قائمخانی نے جس کمپنی کو زمین الاٹ کی اس کے مالک ڈاکٹر ڈنشاہ کو گرفتار کیا تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا لیاقت قائم خانی نے وہ زمین کسی کے حوالے کرنے کا کوئی آرڈر کیا تھا؟ وکیل درخواست گزار بولے جب زمین پر قبضہ ہوا تو اس وقت لیاقت قائمخانی ریٹائر ہوچکے تھے، جبکہ نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ زین ملک کی پلی بار گین کی درخواست آئی وہ چل رہی ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملک ریاض نے تو پلی بار گین نہیں کیا ان کا کیا اسٹیٹس ہے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملک ریاض کیخلاف تفتیش چل رہی ہے، جبکہ کیس کے تفتیشی بولے ملزم لیاقت علی قائم خانی نے کبھی ٹیکس گوشوارے نہیں جمع کرائے، بے نامی کمپنی کا ٹیکس ریکارڈ ابھی تک نہیں ملا، چیف جسٹس نے کہا کہ جس کمپنی کے نام پر اثاثے ہیں نیب نے اس کمپنی ٹیکس ریکارڈ کیوں حاصل نہ کیا، ریفرنس دائر ہونے کے بعد ملزم کو آپ کیسے جیل میں رکھ سکتے ہیں؟ جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ نیب نے ان پلاٹس کی فروخت پر تاحال پابندی کیوں نہیں لگائی؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم لیاقت قائم خانی تفتیش میں تعاون نہیں کررہا، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ملزم تو نیب کو کچھ نہیں بتائے گا مگر ریکارڈ تو نیب نے حاصل کرنا تھا، ٹرائل مکمل ہونے سے پہلے جیل میں رکھ ملزم کو سزا دینے کے مترادف ہے، نیب نے ابھی تک ایف بی آر اور کسی دوسرے ادارے سے ملزم کا ریکارڈ تک حاصل نہیں کیا، نیب پراسیکیوٹر بولے کہ اثاثہ جات ریفرنس میں گرفتار کرنا ہے کیوں کہ لیاقت قائم خانی تعاون نہیں کررہا، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ گاڑیاں اور پلاٹس برآمد ہوگیا تب بھی نیب پر بار ثبوت ہے تاہم عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

