اسلام آباد (این این آئی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نیب قوانین میں اصلاحات لانے کا مطالبہ بہت پرانا ہے،مسودے کو قانونی سازی کے لئے پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جائے گا دونوں ایوانوں میں جائے گا اور اگر معزز ممبران اس میں بہتری کیلئے کوئی تجویز دینا چاہیں تو ضرور دیں۔ پیر کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کہا کہ نیب قوانین میں اصلاحات لانے کا مطالبہ بہت پرانا ہے- مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں، جب ہم اپوزیشن کا حصہ تھے ،انہی قوانین کی اصلاح کیلئے ایک خصوصی کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں مسلم لیگ ن ،پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں بھی شامل تھیں،اس کمیٹی نے نیب اصلاحات کے حوالے سے بہت سا کام کیا لیکن بدقسمتی سے مکمل نہ ہو سکالیکن ایک عمومی تاثر یہ تھا کہ نیب قوانین میں اصلاح کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت نے اب ایک آرڈیننس کے ذریعے ایک پرپوزل سامنے رکھا ہے یقیناً اس مسودے کو قانونی سازی کے لئے پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جائے گا دونوں ایوانوں میں جائے گا اور اگر معزز ممبران اس میں بہتری کیلئے کوئی تجویز دینا چاہیں تو ضرور دیں۔ انہوںنے کہاکہ بہت سے مقدمات میں نیب کی طرف سے جمع کی گئیں شہادتیں نامکمل نظر آئیں،بعض مقدمات میں استغاثہ کے دلائل کمزور دکھائی دئے اور بہت سے لوگ ،جنہوں نے قومی خزانے کو لوٹا ،ان نقائص کی وجہ سے انہیں فائدہ پہنچالیکن اس ادارے میں بہتری لائی جا سکتی ہے ان نقائص کو دور کیا جا سکتا ہے نیب اپنی کاروائی اور تفتیش میں مکمل آزاد ہے اور یہ تاثر کہ نیب کو کسی انتقامی کارروائی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، درست نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ بہت سے ادارے تفتیش سے وابستہ ہوتے ہیں لیکن تفتیش کی نوعیت مختلف ہوتی ہے مثال کے طور پر مالی معاملات کی تفتیش کی نوعیت ، دہشت گردی کی تفتیش سے مختلف ہو گی اسی طرح ٹیکس سے متعلقہ امور کی تفتیش کیلئے الگ مہارت کی ضرورت ہو گی اسلئے مختلف اداروں کی خدمات لی جاتی ہیں ایک ہی ادارے کے پاس ان ہمہ قسم مہارت کی موجودگی شائید ممکن نہ ہو ۔انہوںنے کہاکہ آرڈیننس کی ایک معینہ مدت ہوتی ہے اس کے بعد اسے قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کے پاس جانا ہوتا ہے جس میں حکومتی اراکین کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کا موقف بھی سامنے آئے گا ۔ انہوںنے کہاکہ احتساب کے عمل کو آگے بڑھانے میں اور ادارے کو مستحکم بنانے کے لئے اگر اپوزیشن کے پاس، قابل عمل، مثبت تجاویز ہونگی تو ہم کھلے دل سے ان پر غور بھی کریں گے اور انہیں قبول بھی کریں گے۔

