نائیجیریا میں مسلح افراد کے حملے میں 110 کسان ہلاک، اقوام متحدہ

میدوغوری: شمال مشرقی نائجیریا میں کھیت کے مزدوروں پر ہفتے کے آخر بوکو حرام کے دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے حملے میں کم از کم 110 افراد ہلاک ہو گئے۔
متحدہ کے انسانی حقوق کے رابطہ کار ایڈورڈ کیلن نے ایک بیان میں کہا کہ اس حملے میں کم سے کم 110 شہری بے رحمی سے قتل کر دیے گئے اور متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
ہفتے کو بوکو حرام کے جنگجوؤں کی جانب سے کیے گئے حملے میں ابتدائی طور پر 43 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی اور پھر مزید 70 افراد کے قتل کی تصدیق ہوئی۔
کلون نے بوکو حرام کا نام لیے بغیر “غیر ریاستی مسلح گروہوں” کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اس سال بے گناہ شہریوں کے خلاف سب سے بڑا براہ راست پُرتشدد حملہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں اس گھناؤنے اور بے حس فعل کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتا ہوں۔
اس خونریزی کا مرکز ریاست بورنو کے دارالحکومت میدوگوری کے قریب گاؤں کوشوبے تھا، حملہ آوروں نے چاول کے کھیتوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو نشانہ بنایا اور ایک حکومت مخالف ملیشیا نے بتایا کہ حملہ آور مزدوروں کو باندھ کر گلے کاٹ رہے ہیں۔
کلون نے کہا کہ موٹر سائیکلوں پر آنے والے سوار مسلح حملہ آوروں نے علاقے کی دیگر برادریوں کو بھی نشانہ بنایا۔
بورنو کے گورنر بابگنان عمارہ زولوم نے اتوار کے روز نواحی گاؤں زبرماری میں تدفین میں شرکت کی جس میں ہفتہ کے روز 43 لاشیں برآمد ہوئی تھیں، ان کا کہنا تھا کہ سرچ آپریشن دوبارہ شروع ہونے کے بعد یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرین میں شمال مغربی نائیجیریا میں سوکٹو ریاست کے درجنوں مزدور شامل ہیں جو لگ بھگ ایک ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر رہتے تھے اور کام کی تلاش کے لیے شمال مشرق کا سفر کرتے تھے۔
ایڈورڈ کیلن نے کہا کہ حملے میں چھ افراد زخمی ہوئے اور آٹھ ہفتہ تک لاپتہ رہے اور رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے خواتین کے اغوا کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔




