یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور مزدور اس معاشرے کا ہی حصہ ہے،بلال عباس قادری
کراچی:مہنگائی اور بے روزگاری سے جہاں غریب اور متوسط طبقے کے لوگ پریشان ہیں،اسی طرح یومیہ اجرت اور صنعتی محنت کشوں کو کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان سنی تحریک کے مرکزی صدر صاحبزادہ علامہ بلال عباس قادری میں مختلف این جی اوز کے وفد سے ملاقات کے موقع پر کرتے ہوئے کیا۔ملاقات کے لیے آنے والے نجی این جی اوز کے وفد نے مزدور طبقے کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کے ساتھ روز بروز زیادتیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔مزدوروں کی آفیشل ڈیوٹی آٹھ گھنٹے ہوتی ہے مگر ان سے 10 سے 12 گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔جب محنت کش کی مزدوری دینے کا وقت آتا ہے تو اسے ڈرا دھمکا کر تھوڑے پیسے دے کر ٹال دیا جاتا ہے۔پاکستان سنی تحریک کے مرکزی صدر صاحبزادہ علامہ بلال عباس قادری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوم مئی آتا ہے تو پوری قوم اور حکومت یوم مئی مناتی ہے مگر مزدور اس دن بھی کام کر رہا ہوتا ہے۔جس کے لیے عالمی دن منایا جا رہا ہے اسی کا کوئی خیال نہیں کرتا۔حکومت کی جانب سے مزدوروں کی اجرت میں اضافے کا نوٹیفکیشن تو نکالا جاتا ہے مگر اس پر عمل درآمد ہوتا ہوا کہیں نظر نہیں آتا ہے۔مزدور طبقہ ہی ہے جس کی محنت کی وجہ سے یہ معاشرہ صاف اور اچھا نظر آتا ہے۔ملک کی تعمیر و ترقی میں مزدور کا کردار ریڑھ کی ہڈی جیسا ہے۔کوئی خوبصورت عمارت ہو یا کوئی خوبصورت جگہ سب اس چیز کی تو تعریف کرتے ہیں مگر مزدور کو بھول جاتے ہیں جس نے وہ چیز یا وہ جگہ بنائی ہوتی ہے۔بلال عباس قادری وفد سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور مزدور اس معاشرے کا ہی حصہ ہے،مگر اس طبقے کے ساتھ ہر دور میں زیادتی ہوتی رہی ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی نے مزدور طبقے کا برا حال کر دیا ہے۔مزدور دو وقت کی روٹی کے لیے بھی بہت محنت مشقت کرتا ہے،مگر اس کو اس کی محنت کا صلہ اس حساب سے نہیں دیا جاتا جو اسلامی تعلیمات اور شریعت کہتی ہے۔
Comments are closed.