
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بلوچستان کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں اراکین صوبائی اسمبلی بلوچستان زرین خان مگسی، عبید اللہ گورگیج، فضل قادر مندوخیل، زابد علی ریکی، رحمت صالح بلوچ، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، ایڈیشنل سیکریٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکریٹری قانون سعید اقبال اور چیف اکاؤنٹس آفیسر پی اے سی ادریس آغا نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آڈٹ بلوچستان نے ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام (جنگلات و جنگلی حیات اجزاء) کے مالی سال 2019 سے 2022 تک کے خصوصی آڈٹ پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے اس منصوبے کا آغاز قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام، درختوں کے احاطے میں اضافے، ماحولیاتی بہتری اور دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے کیا تھا۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق منصوبے میں انتہائی سست رفتاری دیکھنے میں آئی جس کی بنیادی وجہ افسران کے بار بار تبادلے، پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ اور پروجیکٹ امپلیمنٹیشن یونٹس میں عملے کی کمی اور خالی اسامیوں کو پُر نہ کرنا تھی۔ مالی سال 2019 سے 2022 کے دوران منصوبے کی مجموعی کارکردگی صرف 12.43 فیصد جبکہ مالی کارکردگی 10 فیصد رہی۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ منصوبے کے تین سالہ عرصے کے دوران افسران کی بار بار تقرریاں و تبادلے کیے گئے جبکہ اہم عہدے خالی رہے۔ منصوبے کے آغاز سے اب تک پانچ سیکریٹری تبدیل کیے جا چکے ہیں لیکن محکمہ نے ایک مرتبہ بھی ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس بلانے کی زحمت نہیں کی۔کمیٹی نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ جنگلات نے نہ صرف منصوبے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا بلکہ پرانے درختوں کو بھی ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کا حصہ ظاہر کیا گیا۔ مزید یہ کہ گزشتہ پانچ سالوں کا کوئی ریکارڈ بھی کمیٹی کو فراہم نہیں کیا گیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام (جنگلات و جنگلی حیات) کے بجٹ اور اخراجات کی تفصیل خصوصی آڈٹ کے دوران جنگلات اور جنگلی حیات کے اجزاء کے مالی سال 2019 تا 2022 کی بجٹ ریلیز اور اخراجات کی صورتحال درج ذیل رہی:



