
ماشکیل: حکومت بلوچستان نے ایرانی تیل پر پابندی عائد کرنے اور فوری طور پر ایکشن لینے کے فیصلے نے بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے گزشتہ دنوں حکومت بلوچستان کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہوا تھا اس فیصلے نے بلوچستان کے سرحدی علاقوں کے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ایک اندازے کے مطابق بلوچستان کے دس لاکھ لوگ ایرانی تیل کا کاروبار کرتے ہیں بلوچستان کے سرحدی علاقوں کا ایریا دو ہزار کلو میٹر پر واقع ہے جبکہ ملک اور صوبے کا پسماندہ ترین سرحدی تحصیل ماشکیل کے اسی فیصد لوگوں کا ذریعہ معاش بارڈر یعنی کہ تیل کے کاروبار پر منسلک ہے جس صوبے میں غربت کا شہرہ چھیاسی فیصد ہو وہاں پر اس طرح کے فیصلے کرنا غریب لوگوں کے دو وقت کے روٹی چھینے کے مترادف ہے بلوچستان کے سرحدی تحصیل ماشکیل کے غریب لوگوں کا کاروبار کا واحد ذریعہ بارڈر ہے اگر ان کو بند کیا گیا تو یقینی طور پر یہاں کے لوگ شدید مشکلات سے دوچار ہونگے آپ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ سرحدی علاقوں کے لوگ کن مشکلات مجبوری اور خطرناک راستوں سے صرف اور صرف اپنے بچوں کی دو وقت روٹی کے لیے کام کرتے ہیں اہل بلوچستان کے لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر فوری طور پر نظرثانی کیا جائے اور سرحدی علاقوں کے غریب لوگوں کو تیل کی کاروبار کی اجازت دی جائے تاکہ ان کی مشکلات دور ہو جائے۔



