
APCC کا اجلاس، PSDP 2024-25 کا جائزہ اور URAAN پاکستان وژن کے تحت 2025-26 کے لیے تجاویز کی منظوری
اسلام آباد | 2 جون 2025- سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی (APCC) کا اجلاس آج اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) 2024-25 کی پیش رفت کا جائزہ لینا اور آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے تجاویز کو حتمی شکل دینا تھا۔
اجلاس میں وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ یہ اجلاس ایک اہم مرحلے پر منعقد ہوا جب پاکستان مالیاتی دباؤ اور علاقائی چیلنجز کے باوجود اپنی طویل المدتی ترقیاتی حکمت عملی “اُڑان پاکستان (URAAN Pakistan)” کے تحت آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہے۔ تمام صوبوں نے اس بات کو سراہا کہ منصوبہ بندی کے وزیر کی قیادت میں منصوبہ بندی کا عمل شفاف، مربوط اور مؤثر بنایا گیا۔
اپنے خطاب میں وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ مالیاتی گنجائش کی کمی اور متعدد قومی ترجیحات کے باوجود حکومت ترقیاتی عمل کو جاری رکھنے کے لیے وسائل کے اسٹریٹجک استعمال، کارکردگی کی بنیاد پر منصوبہ بندی اور صوبوں کے ساتھ قریبی رابطے کے ذریعے پائیدار اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ حکومت کا وژن پاکستان کو 2035 تک ایک کھرب ڈالر اور 2047 تک تین کھرب ڈالر کی معیشت بنانا ہے۔
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط اور پالیسی اصلاحات کے نتیجے میں مالی سال 2024-25 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں بنیادی بجٹ سرپلس 3 فیصد رہا، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے میں 1.5 فیصد تھا۔ آئی ایم ایف معاہدے اور کریڈٹ ریٹنگ کی بہتری سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ رواں سال جی ڈی پی کی شرح نمو 2.7 فیصد رہی جو ہماری توقعات سے کم ہے، تاہم صنعتی شعبے میں 4.8 فیصد اضافہ ہوا، جو توانائی اور انفراسٹرکچر میں ہماری مداخلتوں کے مثبت اثرات کا مظہر ہے۔ سروسز سیکٹر میں 2.9 فیصد نمو دیکھی گئی، بالخصوص آئی ٹی، فنانس اور پبلک ایڈمنسٹریشن کے شعبوں میں۔
وزیر نے مزید کہا کہ مالی خسارہ کم ہوا ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں بیرونِ ملک سے ترسیلات زر اور مالیاتی نظم و ضبط کا اہم کردار ہے۔ آئندہ سال معیشت میں 4.2 فیصد شرح نمو کی توقع ہے، جس کی بنیاد زرعی اور صنعتی شعبے کی بحالی پر ہو گی۔
PSDP 2024-25 کی تفصیلات
اجلاس میں جاری PSDP کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ قومی اقتصادی کونسل (NEC) نے 3,792.3 ارب روپے کے ترقیاتی اخراجات کی منظوری دی تھی، جن میں شامل تھے:
•1,400 ارب روپے – وفاقی PSDP
•2,095.4 ارب روپے – صوبائی ADPs
•196.9 ارب روپے – سرکاری ادارے
تاہم مالیاتی دباؤ کے باعث وفاقی PSDP کو کم کر کے 1,100 ارب روپے کر دیا گیا۔ 31 مئی 2025 تک 1,036 ارب روپے کے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی جا چکی تھی، جبکہ 596 ارب روپے خرچ کیے جا چکے تھے۔ مجموعی طور پر 1,071 منصوبے شامل تھے جن کی مجموعی لاگت 13,427 ارب روپے تھی، جبکہ 10,216 ارب روپے کے “تھرو فارورڈ لائیبلیٹیز” موجود ہیں۔
وزیر نے بتایا کہ کارکردگی کے جامع جائزے کے بعد 118 کمزور یا غیر فعال منصوبوں کو بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جن سے 1,000 ارب روپے کی بچت ممکن ہوگی۔ مزید برآں، 84 ارب روپے تیز رفتار منصوبوں کو منتقل کیے گئے اور 80 ارب روپے ٹی ایس جی کے ذریعے قومی ترجیحات کے لیے مختص کیے گئے، جیسے کہ بلوچستان میں ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن۔
PSDP 2025-26 کے خدوخال:
آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد وزارت خزانہ نے وفاقی PSDP 2025-26 کے لیے 1,000 ارب روپے کا اشاریاتی بجٹ حد مقرر کی ہے، جس میں 270 ارب روپے غیر ملکی امداد شامل ہے۔ اس میں 1,120 منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جن پر اگلے 3-4 سال میں کام مکمل کرنے پر توجہ ہے۔ اہم نکات درج ذیل ہیں:
•دیامر بھاشا ڈیم کو واٹر سیکیورٹی کے لیے اولین ترجیح دی گئی
•حیدرآباد-سکھر موٹروے کا آغاز مالی سال 2025-26 میں
•بلوچستان کے لیے 250 ارب روپے – سب سے زیادہ صوبائی حصہ
شعبہ وار مختص بجٹ:
•644 ارب روپے – انفراسٹرکچر
•332 ارب: ٹرانسپورٹ و مواصلات
•144 ارب: توانائی
•150 ارب روپے – سماجی شعبے
•63 ارب: تعلیم و اعلیٰ تعلیم
•22 ارب: صحت
•70 ارب روپے – ضم شدہ اضلاع (خیبرپختونخوا)
•63 ارب روپے – آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان
•53 ارب روپے – سائنس و آئی ٹی
•9 ارب روپے – گورننس
•11 ارب روپے – زراعت، خوراک، صنعت
•288 ارب روپے – SOEs (WAPDA، NTDC، OGDCL وغیرہ) کے ترقیاتی منصوبے
ترقی اور دفاع میں توازن:
وزیر احسن اقبال نے 7 مئی 2025 کے بعد مشرقی سرحد پر کشیدگی میں اضافے اور اس کے نتیجے میں دفاعی اخراجات میں اضافے کو تسلیم کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت دفاع اور ترقی دونوں کو متوازن رکھنے کے لیے پرعزم ہے:
“ایک مضبوط قوم کے لیے مضبوط دفاع ضروری ہے، لیکن صحت، تعلیم، ٹیکنالوجی اور معاشی خود مختاری میں سرمایہ کاری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔”
APCC کے منظور کردہ کلیدی اصلاحات:
•CDL قرضوں کی PSDP سے ایٹ سورس کٹوتی ختم کرنے کی منظوری
•صوبائی نوعیت کے منصوبے صوبوں کو خود فنڈ کرنے کی پالیسی کی توثیق
•IMF پروگرام کے دوران DDWP کی سطح پر منصوبہ منظوری پر پابندی (صرف CDWP کی منظوری سے مستثنیٰ)
•ترقیاتی فنڈز کو ری کرنٹ اخراجات میں منتقل کرنے پر پابندی
اختتامی کلمات:
وزیر نے وفاقی وزارتوں، صوبائی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ “اُڑان پاکستان” کے وژن کو اپنانے میں متحد ہوں، جو پانچ ستونوں پر مبنی ہے:
1.برآمدات
2.ای-پاکستان (ڈیجیٹل تبدیلی)
3.توانائی و انفراسٹرکچر
4.ماحولیاتی و موسمیاتی لچک
5.مساوات، اخلاقیات و اختیارات
“ہم صرف بجٹ نہیں بنا رہے—ہم پاکستان کا مستقبل تشکیل دے رہے ہیں۔ جہاں دنیا کو حدود نظر آتی ہیں، ہم امکانات دیکھتے ہیں۔ اُڑان پاکستان محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ ہماری قومی امنگوں کا عکس ہے۔”




