پاکستان – کرغزستان ٹریڈ اینڈ انوسیمنٹ فورم کا انعقاد

28

عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی

کراچی (29جولائی 2025): صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، عاطف اکرام شیخ، نے پاکستان میں کرغزستان کے اعلیٰ سطحی تجارتی وفد کا خیرمقدم کیا ہے؛ جس میں سینئر پارلیمنٹرینز، سفارتکار، تاجر اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔ایف پی سی سی آئی نے منگل کے روز کراچی میں اپنے ہیڈ آفس فیڈریشن ہاؤس میں پاکستان – کرغزستان ٹریڈ اینڈ انوسیمنٹ فورم کا انعقاد کیا؛ جوکہ تجارت و صنعت کی باہمی ٹریڈ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا مظہر ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ حالیہ پاک-کرغز بین الحکومتی کمیشن میں دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو موجودہ 16 ملین ڈالر سے بڑھا کر 100 ملین ڈالر تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے؛ کیونکہ موجودہ تجارتی حجم اصل صلاحیت سے کہیں کم ہے۔فورم کے مہمانِ خصوصی کرغز ریپبلک کی کابینہ کے نائب چیئرمین H.E. Mr. Edil Baisalove تھے۔ انہوں نے پاکستانی تاجروں اور صنعتکاروں کو بتایا کہ کرغز ریپبلک تیزی سے صنعتی ترقی کی طرف گامزن ہے؛ جوکہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی تعاون کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔پاکستان میں کرغز ریپبلک کے سفیر H.E. Mr. Kylychbek Sultan نے بتایا کہ پاکستان اور کرغز ریپبلک نئی تجارتی راہداریاں قائم کرنے پر کام کر رہے ہیں؛ تاکہ، باہمی تجارت کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے زور دیا کہ چینی شہر کاشغر سے کرغزستان کا فاصلہ تقریباً 200 کلومیٹر ہے اور پاکستان بھی سی پیک کے ذریعے اس علاقے سے منسلک ہے؛ جبکہ،کرغزستان کے دو پاسز،یعنی کہ توروگارٹ اور ارکیشٹم کو گوادر بندرگاہ تک منسلک کر کے تجارتی رسائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی وفود کے باقاعدہ تبادلوں کے ساتھ ساتھ یکطرفہ نمائشوں کا انعقاد بھی ضروری ہے؛ تاکہ،دونوں ملکوں کی مصنوعات و خدمات کو اجاگر کیا جا سکے۔ انہوں نے نان ٹیرف تجارتی رکاوٹوں (NTMs / NTBs) کے فوری خاتمے اور پاکستان و کرغز چیمبر (FPCCI اور CCI-KG) کے درمیان قریبی روابط کی ضرورت پر زور دیا۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر اور ریجنل چیئرمین سندھ، عبدالمہیمن خان نے پاکستان میں کاروبار میں آسانی کے لیے کی گئی حکومتی اصلاحات کو اجاگر کیا جن میں درج ذیل شامل ہیں:(i) کمپنی رجسٹریشن اور ٹیکس فائلنگ کا ڈیجیٹل نظام(ii) کئی شعبوں میں 100 فیصد غیر ملکی ملکیت کی اجازت(iii) خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کا قیام، جہاں ٹیکس چھوٹ، ڈیوٹی فری درآمدات اور آسان قوائد و ضوابط دستیاب ہیں۔نائب صدر ایف پی سی سی آئی امان پراچہ نے کہا کہ فورم میں ہونے والی گفت و شنیدکو عملی جامہ پہنانے کے لیے فیڈریشن کرغز چیمبر اور بزنس کمیونٹی کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گی۔نائب صدر ایف پی سی سی آئی آصف سخی نے محفوظ، مؤثر، کم وقت اور کم لاگت پر مبنی تجارتی راستوں کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اگر مواقع دیے جائیں تو پاکستان کرغزستان کو اپنی برآمدات میں تیزی سے اضافہ کر سکتا ہے۔

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکرٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

Comments are closed.