بلوچستانپاکستانتازہ ترین

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نے محکمہ زراعت حکومت بلوچستان، ایف اے او اور ترقی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے لورالائی کے میونسپل ہال میں ایک اہم آگاہی سیشن کا انعقاد کیا

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نے محکمہ زراعت حکومت بلوچستان، ایف اے او اور ترقی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے لورالائی کے میونسپل ہال میں ایک اہم آگاہی سیشن کا انعقاد کیا، جس کا مقصد بلوچستان کے زیتون کے شعبے کی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کرنا اور اسے بین الاقوامی منڈی کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا تھا۔ٹی ڈی اے پی کے نیشنل پروڈکٹ آفیسر زین العابدین نے سیشن کے شرکاء سے خطاب میں بتایا کہ پاکستان کی زیتون کی برآمدات گزشتہ پانچ برسوں میں 600 فیصد سے زائد اضافہ کے ساتھ 2020 میں 15 ٹن سے بڑھ کر 2024 میں 160 ٹن ہو گئی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو کم قیمت بلک برآمدات سے نکل کر برانڈڈ، تصدیق شدہ اور اعلیٰ معیار کے زیتون کے تیل کی برآمدات کی طرف جانا ہوگا تاکہ 14 ارب ڈالر کی عالمی زیتون مارکیٹ میں اپنا جائز حصہ حاصل کیا جا سکے۔انہوں نے بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملائیشیا اور مشرق وسطیٰ کو اس شعبے کے لئے کلیدی برآمدی منڈیاں قرار دیا، جہاں ایکسٹرا ورجن زیتون کے تیل کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے حلال، آرگینک، آئی ایس او سرٹیفیکیشن، جغرافیائی اندراج اور فوری ٹریس ایبلٹی نظام کو اپنانے پر زور دیا تاکہ عالمی خریداروں کے معیارات پر پورا اترا جا سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے ذریعے استعداد کار بڑھانے، بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی زیتون کو فروغ دینے، اور کاشتکاروں، پروسیسرز و تاجروں کے لیے ایک پائیدار برآمدی نظام کی تشکیل پر زور دیا۔اس سیشن میں محکمہ زراعت کے افسران ڈاکٹر یوسف اور حبیب اللہ کاکڑ نے بتایا کہ لورالائی کا نیم گرم و مرطوب موسم اور جدید زرعی طریقے زیتون کی کاشت کے لیے نہایت موزوں ہیں۔ 2024–25 میں 3 لاکھ سے زائد پودے تقسیم کیے گئے جن کی شرح بقاء 80 فیصد رہی، جو کہ تجارتی پیداوار کے مرحلے میں داخل ہونے کا اشارہ ہے۔ انہوں نے بیج کی جگہ قلم کاری کو فروغ دینے اور ٹی ڈی اے پی سے پیداوار کے مرحلے پر برآمدی پروٹوکولز کو شامل کرنے کی درخواست کی۔زمیندار ایکشن کمیٹی کے صدر حاجی عصمت کدیزئی نے نشاندہی کی کہ فی الحال لورالائی میں صرف ایک تیل کشی یونٹ موجود ہے جبکہ 2030 تک متوقع پیداوار کو سنبھالنے کے لیے کم از کم 10 یونٹس کی ضرورت ہو گی۔ ایف اے او کے ڈاکٹر رزاق نے ویلیو چین ڈویلپمنٹ پر پیش رفت سے آگاہ کیا جبکہ ڈی ڈی ریسرچ مولاداد نے بتایا کہ زیتون کم پانی والی فصل ہے اور فی ایکڑ 108 تا 134 درخت ممکن ہیں۔ سیشن کا ایک خاص پہلو یہ رہا کہ مقامی کسان عبدالجبار کی فراہم کردہ زیتون کی فصل سے تیار ہونے والے تیل کو 2025 نیویارک انٹرنیشنل اولیو آئل کمپیٹیشن میں جنوبی ایشیا کا پہلا سلور ایوارڈ ملا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لورالائی کے زیتون بین الاقوامی معیار پر پورا اترتے ہیں۔اجلاس کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اگر ٹی ڈی اے پی قیادت فراہم کرتا رہے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے تو لورالائی پاکستان کا نمایاں ترین زیتون برآمدی زون بن سکتا ہے، جو قومی تجارت اور دیہی معیشت میں انقلابی کردار ادا کرے گا

Related Articles

Back to top button