
کوئٹہ : نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاہے کہ حکومت فوری طور پر ریکوڈک معاہدے کو عوام کے سامنے لائے تاکہ لوگوں میں پائے جانے والے تحفظات دور ہوسکے۔ 2018ء کے انتخابات میں ہماری جماعت کی جیتی ہوئی سیٹیں چھین کر ہماری کامیابی کو ہار میں تبدیل کیا گیا ہم پی ڈی ایم کا حصہ ہیں۔ حکومت کو ختم کرنے کے لئے ہر وقت ان کے ساتھ ہے۔ ہمارے دو سینیٹرز ہیں جس وقت وہ چاہئیں گے اسی وقت استعفیٰ دیدیں گے۔ یہ بات انہوں نے ہفتہ کونصیر آباد ڈویژن سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے حاجی نثار احمد کی مستعفی ہوکر نیشنل پارٹی میں شمولیت کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ اس موقع پر پارٹی کے دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک اور قوم کو تحریک انصاف کی حکومت کے دوران مہنگائی، بے روزگاری سمیت بہت سے مسائل درپیش ہیں۔ آنے والے انتخابات میں نیشنل پارٹی کی کارکردگی بہت بہتر ہوگی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے خاتمے کیلئے پی ڈی ایم کے ساتھ ہوں اگر موجودہ حکومت کے خاتمے کیلئے استعفیٰ چاہئے تو میں ابھی اپنے پارٹی کے دو سینٹ کے ممبران کے استعفے پیش کرنے کیلئے تیار ہوں۔ ان کا کہنا تھاکہ گزشتہ الیکشن میں نیشنل پارٹی کی جیتی ہوئی سیٹوں کو چھین کر ہماری جماعت کی کامیابی کو ہار میں تبدیل کیا گیا حالانکہ نیشنل پارٹی نے اپنے دور حکومت میں صوبے کی جس طرح خدمت کی وہ سب کے سامنے ہے۔ ہماری جماعت نصیر آباد ڈویڑن میں کمزور رہی ہے لیکن آج حاجی نثار احمد جیسی شخصیت کی اپنے ساتھیوں سمیت ہماری پارٹی میں شمولیت سے ہماری جماعت مزید فعال اور مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حاجی نثار احمد اس قبل برسر اقتدار پارٹی پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ تھے اور 2018ء کے انتخابات میں 7 سے 8 ہزار ووٹ لے چکے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہی ہے اور عوام کی ہی کی حکمرانی اس ملک پر ہونی چاہئے تاکہ ملک میں جمہوری سسٹم رواں دواں رہ سکے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر مالک نے کہا کہ ریکوڈک کے حوالے سے جو بھی معاہدے ہوئے ہیں ان کو عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ عوام میں پائی جانے والی تشویش، تحفظات اور خدشات دور ہوسکے۔ حکومت کو چاہئے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ بلوچستان کے وسائل کو کوڑیوں کے دام فروخت کرنے کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے جس کی ہم کسی صورت اجازت نہیں دیں گے۔ حکومت کی جانب سے ان کیمرہ اجلاس میں مجھے بلایا تھا میں نہ تو ممبر اسمبلی ہوں میں کس حیثیت سے اجلاس میں جاتا اور بات کرتا اس لئے میں نے وہاں جانا مناسب نہیں سمجھا۔ ہاں اگر معاہدہ سامنے آتا ہے تو پھر ریکوڈک کے حوالے سے جو چیزیں میرے علم میں ہے وہ سامنے لاؤں گا تاکہ اصل حقائق قوم کے سامنے آسکیں۔ اور میں نے وزارت اعلیٰ کے دورریکوڈک، گوادر سمیت بلوچستان کے وسائل کو دوسروں کے حوالے کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں کیا اور نہ ہی گوادر ماسٹر پلان پر میرے دستخط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی نصیر آباد ڈویڑن میں بہت کمزور تھی حاجی نثار احمد اور ان کے دیگر کے پارٹی میں شامل ہونے سے نصیر آباد، صحبت پور، کچھی، اور دیگر علاقوں میں نیشنل پارٹی مضبوط اور فعال ہوگی اور آنے والے الیکشن میں ہماری جماعت وہاں کامیابی سے ہمکنار ہوگی جس طرح کوہلو، بارکھان اور دیگر علاقوں میں پارٹی جماعت مضبوط اور فعال ہے۔اس موقع پر نصیر آباد سے تعلق رکھنے والے سیاسی و قبائلی شخصیت پی ٹی آئی کے رہنماء حاجی نثار احمد نے اپنے ساتھیوں سمیت نیشنل پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں پی ٹی آٹی کی موجودہ کارکردگی اور غلط پالیسیوں سے سخت مایوس ہو ہوں اور گزشتہ دور حکومت کے دوران نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی گزشتہ کارکردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے وژن سے متاثر ہوکر آج اپنے ساتھیوں سمیت علاقے اور عوام کی بہتری کیلئے نیشنل پارٹی میں شامل ہورہا ہوں تاکہ ہم علاقے کی بہتری کے لئے نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے کام کرسکیں اور علاقے کو صوبے کے دیگر علاقوں کے برابر ترقی کے میدان میں لاسکے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ طلباء تنظیموں کی سیاست اور لاپتہ ہونے والے طلباء کے حوالے سے ہماری جماعت کا واضح موقف ہے اس کے حوالے سے بی ایس او کے چیئرمین زبیر کا کہنا تھا کہ جو تنظیمیں لاپتہ افراد کے حوالے سے سیاست کررہی تھی آج بھی وہ اسی پر عمل پیرا ہے۔




