شاہ عبداللطیف یونیورسٹی، خیرپور میں کھجور کے شعبے کی ترقی کے لیے ایک روزہ ورکشاپ
الطاف ابڑو
خیرپور، جو ریاستی دور سے ہی تاریخی اہمیت کا حامل رہا ہے، صرف ثقافتی ورثے، تعلیمی اداروں اور صوفی بزرگوں کے حوالے سے ہی مشہور نہیں بلکہ زراعت کے میدان میں بھی اس کی منفرد شناخت ہے۔ خصوصاً کھجور کی پیداوار کے حوالے سے خیرپور کو پاکستان کا "ڈیٹ کیپیٹل” کہا جاتا ہے۔
کھجور کی کاشت اس علاقے میں صدیوں پرانی روایت ہے۔ خیرپور اپنی خوشگوار آب و ہوا، پانی اور زرخیز زمین کے باعث کھجور کی افزائش کے لیے نہایت موزوں علاقہ ہے۔ آج کل ضلع خیرپور میں تقریباً 60,000 ایکڑ پر کھجور کے باغات موجود ہیں، جہاں 200 سے زائد اقسام کی کھجوریں کاشت کی جاتی ہیں۔
خیرپور سے ہر سال تقریباً 3 لاکھ ٹن سے زائد کھجوریں پیدا ہوتی ہیں، جو پاکستان کی مجموعی پیداوار کا لگ بھگ 60 فیصد ہیں۔ یہ کھجوریں نہ صرف مقامی منڈیوں میں فروخت ہوتی ہیں بلکہ چین، انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کو بھی برآمد کی جاتی ہیں۔
شاہ عبداللطیف یونیورسٹی، خیرپور کے ڈیٹ پام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (DPRI) اور پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (PHDEC) کے اشتراک سے "کھجور کے شعبے میں مہارتوں کے فروغ اور ویلیو چین” کے عنوان پر یونیورسٹی کے شہید بے نظیر بھٹو چیئر ہال میں ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک نے کی۔ اس موقع پر PHDEC کے ڈاکٹر محمد عظیم خان، خاور ندیم، ذوالقرنین ذکاء، TDAP سکھر کے افسران، سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کے صدر شائستہ بلوچ، کلیم اللہ عباسی، نجیب اللہ عباسی اور حافظ عبدالحلیم میمن (زمین دار ڈیٹس) سمیت دیگر افراد بھی شریک تھے۔
اپنے صدارتی خطاب میں وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ کھجور صرف ایک پھل نہیں بلکہ ہماری تہذیب کی علامت ہے۔ ہمیں مقامی کاشتکاروں کو جدید کاشتکاری، ہارویسٹ کے بعد سنبھال، اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے برانڈنگ کی حکمت عملی سکھانی چاہیے تاکہ ان کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کھجور ہماری ثقافت اور خیرپور کی شناخت سے جڑی ہوئی ہے۔
ڈاکٹر خشک نے مزید کہا کہ کھجور میں پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بروقت حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے بچوں کو پولیو کے قطرے دیے جاتے ہیں، ویسے ہی کھجور کے درختوں کو بھی حفاظتی اسپرے دیا جائے تاکہ وہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔
ڈیٹ پام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے فوکل پرسن ڈاکٹر امیر احمد میر بحر نے کھجور کی ٹشو کلچر کے ذریعے کاشت، ٹشو کلچر شدہ پودوں کی جینیاتی استحکام اور ڈی این اے فنگر پرنٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے جنس کی شناخت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی پی آر آئی میں جرم پلازم یونٹ قائم کیا گیا ہے، جس میں ملکی اور غیر ملکی اقسام کو شامل کیا گیا ہے اور PHDEC کی مدد سے مستقبل میں ان اقسام میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی پی آر آئی میں فوڈ ٹیکنالوجی، مٹی اور غذائی اجزاء کے انتظام اور پودوں کی بیماریوں کے متعلق مختلف لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی، جو کاشتکاروں کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ DPRI میں ہونے والی تمام تحقیق کا مقصد کسانوں کی بھلائی ہے۔
شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے شعبہ باٹنی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ممتاز ساند نے بتایا کہ خیرپور کے کھجور کے باغات میں چار اقسام کے فنگس دریافت ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر ممتاز ساند نے کہا کہ مون سون کی بارشوں اور نمی کے باعث کھجور کے درختوں میں فنگس لگتی ہے، جو جڑ، تنے، پتوں اور پھلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ فنگس کے حملے سے کھجور کے پتے جھکنے لگتے ہیں اور پھل جھڑ جاتے ہیں، جس سے پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ اس کے بچاؤ کے لیے اسپرے اور مٹی میں مؤثر ادویات کے استعمال کا مشورہ دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ خیرپور کے مختلف علاقوں سے نمونے جمع کیے گئے ہیں اور ان میں ایسے فنگس کی نشاندہی ہوئی ہے جو کھجور کے اچانک سوکھ جانے کا سبب بنتی ہیں۔ اس فنگس کی شناخت مائیکروسکوپی اور جین سیکوئنس کے ذریعے کی گئی ہے۔ فی الوقت اسپرے اور مٹی میں ادویات ڈالنے کا علاج تجویز کیا گیا ہے۔
زرعی ماہر ڈاکٹر مشتاق حسین سومرو نے سندھ میں کھجور کی تاریخی اہمیت اور مارکیٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح جدید پوسٹ ہارویسٹ ٹیکنالوجیز کے ذریعے کاشتکار زیادہ آمدنی حاصل کر سکتے ہیں اور ویلیو چین میں اپنا حصہ بڑھا سکتے ہیں۔
کھجور کے ماہر سید اللہ دنو شاہ نے بتایا کہ ریڈ پام ویول پہلی بار 1980 میں ظاہر ہوا اور کھجور کے درختوں پر شدید حملہ کرکے انہیں نقصان پہنچایا۔ یہ کیڑے کھجور کے پتوں اور جڑوں کو کھا کر درختوں کو اندرونی طور پر کمزور کر دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مادہ ویول تقریباً 300 انڈے دیتی ہے، جن سے نکلنے والے بچے درخت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں، جس کے باعث درخت مرنے لگتے ہیں۔
نجیب اللہ عباسی اور حافظ عبدالحلیم میمن نے خیرپور میں کھجور کے دیگر مسائل پر بھی گفتگو کی۔
پی ایچ ڈی ای سی کے ڈاکٹر محمد عظیم خان نے ورکشاپ کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہارٹیکلچر ایکسپورٹ کی مضبوطی اور عالمی معیار سے ہم آہنگی کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہمارا مقصد مقامی کاشتکاروں کو عالمی معیار کے مطابق جدید آلات اور طریقوں سے لیس کرنا ہے تاکہ کھجور کے معیار میں بہتری آئے اور عالمی منڈیوں میں مقابلہ کیا جا سکے۔” انہوں نے بتایا کہ پی ایچ ڈی ای سی سندھ میں غیر ملکی کھجور کی اہم اقسام متعارف کرانے اور ویلیو ایڈیشن کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ورکشاپ کے اختتام پر خاور ندیم نے پی ایچ ڈی ای سی کی جانب سے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور ورکشاپ کی کامیابی پر مسرت کا اظہار کیا۔
ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے عزم ظاہر کیا کہ تحقیق، جدت اور نوجوانوں کی شمولیت کے ذریعے پاکستان کے کھجور کے شعبے کو عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ خاص طور پر انہوں نے خیرپور کی ترقی کے لیے نئے راستے تلاش کرنے کے عزم کا اظہار کیا، جو پاکستان کے “ڈیٹ کیپیٹل” کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔




