
کوئٹہ : وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ اپوزیشن بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کی ذمہ دارہے جنکے منفی ہتھکنڈوں کے باعث رواں مالی سال30سے40ارب روپے خرچ نہیں ہو سکے اگر یہ پیسہ استعمال ہوتا تو مزدوروں تاجروں غریبوں اور متوسط طبقے تک اسکا اثر پہنچتاجس سے غربت اور پسماندگی میں کمی ہوتی اور لوگ خوشحال ہوتے بلوچستان عوامی پارٹی کا مستقبل روشن ہے انشاء اللہ آئندہ انتخابات میں صوبے کے عوام ہمارا کام دیکھ کر ہمیں ووٹ دیں گے اور اسی وجہ سے لوگ جوق در جوق بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل ہورہے ہیں ان خیالات کااظہار انھوں نے کوئٹہ کے ممتاز سیاسی اور سماجی شخصیت ملک شہریار اعوان قبائلی رہنماء علی مردان ڈومکی اور ضلع لورالائی کے سابق ڈسٹرکٹ چیئر مین جہانزیب خان لونی کی باپ پارٹی میں شمولیت کے موقع پر تقریب سے خطاب کر رہے تھے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی میں روزاول سے لیکر اب تک شامل ہونے والے لوگوں کارجحان رہا ہے کہ وہ بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے صوبے کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کر یں ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی میں ایسے لوگوں کو شامل کیا جائے جنکے پاس صوبے کی ترقی و خوشحالی کا وژن ہو اور قبائلی نظام سے وابستہ ہوتے ہوئے اپنے اپنے علاقوں کے ساتھ ساتھ پورے صوبے کی ترقی کیلئے ایک میکانزم کے ساتھ ہمارا اثاثہ بھی بن سکیں اسی طرح ہماری کوشش ہے کہ پورے صوبے میں بلوچستان عوامی پارٹی مثبت انداز میں صوبے کی ترقی کے حوالے سے اپنی سیاست کرے یہی روز اول سے ہمارا یہ مقصد رہا ہے انھوں نے کہا کہ سیاست میں ہر پارٹی کا اپنا موقف ہوتا ہے کوئی قوم پرستی،مذہبی یا پھر لسانی بنیادوں پر سیاست کرتے ہیں یا بلوچستان کے ایشوز کو سامنے رکھ کر سیاست کرتے ہیں لیکن بلوچستان عوامی پارٹی نے پہلے دن سے ہی محسوس کیا ہے کہ صوبے کا بڑا مسئلہ پسماندگی بیروزگاری صحت تعلیم انفراسٹرکچر روڈ اور بیروزگاری اور روزگار نہ ہوناہے اور ہر عام بلوچستانی اپنے حلقے علاقے رشتہ داروں اور زندگی میں یہ تمام بنیادی سہولیات چاہتا ہے ہم نے پہلے دن سے ہی ر بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کو ہی اپنا مقصد بنایا جائے ا نھوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش اور محنت ہو گی کہ اس حوالے سے ہم بینچ مارچ قائم کریں اور اسکے بعد ہی دیگر چیزوں پر کام جاری رکھیں انشاء اللہ ہمارا مقصد ہے اور اسی مقصد پر گامزن رہتے ہوئے پارٹی کے اندر جیسے جیسے مزید پڑھے لکھے اور باشعور لوگ پارٹی میں آرہے ہیں اس سے ہمیں اپنے منشور پر عملدرآمد میں مدد ملے گی میں نے خود یہ محسوس کیا ہے کہ لوگ بلا غرض بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کر رہے ہیں اور آج جو تین لوگ ہماری پارٹی کا حصہ بنے ہیں انکی شمولیت ہماری جیت ہے ایسے لوگوں کی بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت خوش آئند ہے کیونکہ لوگ آپکی پارٹی کو اس میں شامل لوگوں اور شخصیات سے پہچانتے ہیں کہ انکی سوچ کیا ہے میں یہ امید اور دعا کرتا ہوں کہ ہمارا منشور بلوچستان کے مفاد اور ترقی کا غماز ہو تین سالوں کے دوران ہماری پالیسی کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ ہر ضلع کی ترقی یکساں ہو اور انہیں 15سے20جو بنیادی سہولیات ہیں وہ مہیا ہو جس میں تعلیم صحت کالج پولی ٹیکنیک سپورٹس روڈز امن و امان صفائی کی صورتحال واٹر سپلائی بندات اور ڈیمز شامل ہیں شروع دن سے ہی ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ہر ضلع کی بنیادی پالیسی اور فریم ورک بنایا اور اسکی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبے بنائے جائیں اور اس طریقہ کار میں کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں اور اب ہماری ان پالیسیوں کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں اور ژوب سے لیکر گوادر تک عوام ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہورہے ہیں ہمارا وژن تھا کہ ترقی کے ساتھ ساتھ پالیسی اوراداروں میں اصلاحات لائی جائیں بھی لانی ہے صوبے میں پچھلے پچاس سالوں میں کسی بھی ادارے میں اصلاحات نہیں کی گئیں اضلاع میں آج بھی تحصیل آفس اسسٹنٹ کمشنر کے دفاتر ڈسٹرکٹ آفیسرز بنگلوز نہیں ہیں جب یہ تمام سہولیات آپ ڈسٹرکٹ کو دیں گے تو بلوچستان آگے جائے گا اور یہی سلسلہ ہم نے وفاق میں بھی رکھا ہے کہ وہ اسکیمات اور ترقیاتی کام جو ماضی میں صرف چند اضلاع تک محدود ہوتا تھا کیونکہ وہ پلانگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے وزیر وزراء یا وزیراعلیٰ یا پھر جنکی وفاق میں حکومت ہوتی تھی ان کے چند اضلاع تک محدود ہوتے تھے باقی اضلاع کو اس بنا پر کام نہیں ملتے تھے چاہے وہ وفاق کے ہوں یا صوبے کے ہوں کہ انکی نمائندگی نہیں تھی تو بہت کمزور تو لیکن اب ہم اس کو تبدیل کر رہے ہیں کہ نمائندگی ہو یا نہ ہو چاہے وہ اپوزیشن کا حلقہ ہو حکومت کاصوبائی اوروفاقی پی ایس ڈی پی میں اس ضلع کے لئے ترقیاتی کام رکھے جائیں ہم ہر سال اس بات کا ثبوت بھی دے رہے ہیں اور ان کاموں کو شروع کر کے بھی دکھارہے ہیں انشاء اللہ 2023میں سیاسی انتخابات کا میدان لگے گا ہم اپنی انتخابی مہم اور منشور کا فوکس اسی بناء پر رکھیں گے ہم نے جو پانچ سال پہلے آپ سے وعدے کئے تھے اگر ہم نے اسے پورا نہیں کیاتو آپ ہمیں ووٹ نہ دیں لیکن اگر ہم نے آپکے اضلاع، تحصیل اور یونین کونسل میں بنیادی ضروریات فراہم کی ہیں توبلوچستان عوامی پارٹی حق رکھتی ہے کہ عوام بی اے پی کے نمائندوں کو ایک بار پھر ووٹ دیں اسی بنیاد پر ہماری کوشش ہو گی کہ عوام سے ووٹ حاصل کر کے بلوچستان کو مزید ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن کیا جائے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو صوبے کی ترقی اور غربت اور پسماندگی کا خاتمہ ہضم نہیں ہورہا ہے اسی لئے وہ ہمارے خلاف بار بارسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ گئے بلوچستان میں فیکٹریاں کارخانے اور نہ ہی کاروبار کے مواقع ہیں جس سے لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں بلوچستان کی ترقی چند چیزوں پر فوکس کرتی ہے جس میں لائیو سٹاک زراعت تھوڑی بہت تجارت یا پھر حکومتی سطح پر جو صوبائی سطح پر پی ایس ڈی پی پر عملدرآمد سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اگر ہر ضلع میں اگر دوسے تین ارب کے کام ہورہے ہیں تو اس سے منسلک مزدور ٹھیکیداردوکاندار اور خریداری سمیت تمام چیزیں شامل ہیں لیکن اگر آپ کسی عدالت میں جا کر اپنی ہی پی ایس ڈی پی کو رکواتے ہیں تو آپ نہ صرف اپنے ساتھ بلکہ پورے صوبے کے ساتھ ناجائز کر رہے ہیں انھوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے اپنے پہلے مالی سال میں جاری اسکیمات کو مکمل کیا اگلے سال ہمارا ایک بہت اچھا بجٹ آیا اور اس بجٹ میں ہم نے ریکارڈ 73ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کئے جسکی بلوچستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی اس سال بھی ستمبر میں اپوزیشن دوسری مرتبہ صوبائی پی ایس ڈی پی کے خلاف عدالت میں چلی گئی حالانکہ اس حوالے سے پہلے ہی ایک کیس چل رہا تھا لہذا ہمیں مجبورا سپریم کورٹ میں جانا پڑا میں محسوس کرتا ہوں کہ ان پٹیشنز کے ذریعے ایک غریب صوبے کے چھ ماہ ضائع کئے گئے ان کے پٹیشنرز بھی ایسے تھے جنکا ترقی سے کوئی تعلق نہیں ہماری اپوزیشن بھی ان پٹیشن پر ہائی کورٹ سپریم کورٹ چلی گئی اور انھوں نے ایک چیز محسوس نہیں کی کہ انکے حلقوں میں اس بار سب سے زیادہ کام ہورہے ہیں وہ الگ بات ہے کہ یہ کام حکومت کرا رہی ہے پشین اور خضدار اپوزیشن کے حلقے ہیں لیکن وہاں اربوں روپے کے کام ہورہے ہیں کوئٹہ میں ہمارا کوئی ممبر نہیں ہے سوائے ایک یا دو اتحادیوں کے لیکن یہاں 30ارب روپے کے ترقیاتی کام جاری ہیں جس میں کینسر اسپتال،امراض قلب اسپتال،سریاب روڈ،ریڈیو پاکستان،نواں کلی اسپتال،سبزل روڈ،لنک بادینی روڈ سمیت دیگر ترقیاتی منصوبے شامل ہیں آپ ان ترقیاتی منصوبوں کو رکواکر کیا ثبوت دے رہے ہیں لیکن اسکے باوجود ہم نے دن رات ایک کیا ہواہے اور انشاء اللہ اپنا ٹارگٹ حاصل کر لیا جائے گا صوبائی بجٹ لیپس نہیں ہوتا بلکہ یہ پیسہ صوبے میں ہی رہتا ہے لیکن افسوس کہ یہ پیسا خرچ نہیں ہوتا اور لوگوں تک اسکا فائدہ نہیں پہنچ پاتاآج تیس چالیس ارب روپے خرچ نہیں ہوں گے تو ہمارا اپوزیشن سے سوال ہے کہ اسکے ذمہ دار آپ ہیں اگریہ پیسا خرچ ہوتا تو بلوچستان کے مزدور،بس ٹریکٹر چلانے والے پرچون فروش کی جیب ہی میں جانے تھے لیکن صرف اس لئے نہیں جا سکاکہ آپ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہم کیس کرینگے پی ایس ڈی پی رکوائیں گے جس سے حکومت کی کارکردگی خراب ہوگی اور ہم واہ واہ کرینگے اپوزیشن کی سوچ بڑی غلط ہے اگر آپ کو عدالت میں جانا تھا تو پھر کسی ایک سکیم یا چارپانچ منصوبوں کے خلاف جاتے لیکن آپ تو پورے بلوچستان کی پی ایس ڈی پی کو تبدیل کرارہے ہیں ہم سپریم کورٹ گئے اور ہم جیت کر آئے اگر ہمیں کامیابی حاصل ہوئی تو انھوں نے ہماری کارکردگی کو دیکھا اور ہمارے حق میں فیصلہ دیا میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا مشکور ہوں جنھوں نے ہماری بات کو سنا اور ہماری تائید کرتے ہوئے ہمارے حق میں فیصلہ دیا اپوزیشن اسمبلی میں اپنا کردار ادا کرے لیکن اس طرح عدالتوں میں جاکر پی ایس ڈی پی بھرتیوں کو رکواکر اچھا کام نہیں کر رہے ان کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ وہ بلوچستان کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی کررہے ہیں لیکن ان تمام منفی ہتھکنڈوں کے باوجود ہم نے جو وقت ضائع کیا اسکو تیزی سے کور کررہے ہیں جب جون ختم ہوگا تو ہم اپنا مطلوبہ ٹارگٹ حاصل کر لیں گے۔




