شکیل قادر خان: بلوچستان میں فعال گورننس کی نئی روایت
تحریر: شیخ عبدالرزاق
پاکستان کی سول بیوروکریسی میں بعض افسران اپنی اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں، دیانت داری اور وژنری قیادت کے باعث ایک جداگانہ شناخت رکھتے ہیں۔ انہی ممتاز شخصیات میں ایک نام چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کا ہے، جنہوں نے جہاں بھی خدمات انجام دیں، وہاں گورننس کو صرف انتظامی تقاضوں کی تکمیل تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عوامی خدمت کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ ان کی قیادت میں غیر فعال نظام متحرک ہوا، اور اداروں میں نئی روح پھونکی گئی۔بطور چیف سیکرٹری بلوچستان، شکیل قادر خان نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے اصلاحاتی ایجنڈے کو عملی شکل دیتے ہوئے گورننس کے مختلف شعبہ جات میں نمایاں بہتری متعارف کرائی۔ ان کی زیر نگرانی صوبائی انتظامیہ نے ایسے اقدامات کیے جن کے اثرات نہ صرف اداروں میں بہتری کی صورت میں ظاہر ہوئے، بلکہ عام شہری کی روزمرہ زندگی میں بھی بہتری کے اشاریے نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔تعلیم کے شعبے میں انقلابی تبدیلی کا مظہر یہ ہے کہ بلوچستان میں صرف ایک سال کے مختصر عرصے میں 3200 ایسے اسکول دوبارہ فعال کیے گئے جو برسوں سے بند تھے۔ یہ اعداد و شمار صرف اعداد نہیں بلکہ ان ہزاروں بچوں کی امیدوں کا احیاء ہیں جو تعلیمی مواقع سے محروم تھے۔ اسی طرح شعبہ صحت میں بھی تاریخی اقدامات دیکھنے کو ملے۔ صوبے کے وہ دیہی اور پسماندہ علاقے، جہاں قیامِ پاکستان کے بعد سے آج تک کسی ڈاکٹر نے قدم نہ رکھا تھا، وہاں پہلی مرتبہ نہ صرف طبی عملہ پہنچا بلکہ علاج معالجے کی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔ ایک علامتی اور اہم مثال وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے آبائی گاؤں “بیکٹر” کی ہے، جہاں تاریخ میں پہلی بار کسی سرکاری مرکز صحت میں بچے کی پیدائش ہوئی۔ یہ محض ایک طبی واقعہ نہیں بلکہ حکومتی پالیسی کے زمینی اثرات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے مالیاتی نظم و نسق میں اصلاحات کا دائرہ بھی غیر معمولی ہے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی وژنری قیادت اور چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی متحرک رہنمائی میں محکمہ خزانہ بلوچستان کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ ایک انقلابی اقدام کے تحت محکمہ خزانہ میں ایک خصوصی اسپیشلسٹ وِنگ تشکیل دیا گیا ہے جو مالیاتی امور کے ماہرین پر مشتمل ہے۔ ان ماہرین کا انتخاب شفاف اور مسابقتی عمل کے ذریعے نجی شعبے سے کیا گیا ہے، تاکہ وہ بجٹ تجزیہ، مالیاتی تحقیق، پالیسی سازی اور وسائل کی بہتر تقسیم میں حکومت کی معاونت کریں۔ اس ماڈل کے تحت محکمہ خزانہ کو دو علیحدہ بازوؤں — ایک بیوروکریٹک اور دوسرا ٹیکنیکل — میں تقسیم کر دیا گیا ہے، تاکہ روایتی رکاوٹوں سے ہٹ کر زیادہ مؤثر، تیز رفتار اور ڈیٹا پر مبنی فیصلے ممکن ہو سکیں۔ یہ ماڈل نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔ ان کے بقول، اب مالیاتی پالیسی سازی میں سائنسی اور تجزیاتی بنیادوں پر فیصلے ممکن ہوں گے، جس کے نتیجے میں نہ صرف ترقیاتی منصوبہ بندی مؤثر ہو گی بلکہ عوامی خدمات کی فراہمی میں بھی واضح بہتری آئے گی۔ یہ تمام اقدامات وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی اُس پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد نتائج پر مبنی اصلاحات کے ذریعے گورننس کو شفاف، مؤثر اور پائیدار بنانا ہے چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی انتظامی بصیرت اور اعلیٰ قائدانہ صلاحیتوں کا ہی نتیجہ ہے کہ صوبائی حکومت نے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار میں اضافہ جیسے چیلنجز سے نمٹنے میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے بیوروکریسی کو صرف فائلوں کی حد تک محدود رکھنے کے بجائے میدانِ عمل میں متحرک کیا اور ہر سطح پر جوابدہی اور شفافیت کی فضا کو فروغ دیا۔آج بلوچستان ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں تبدیلی محض دعووں تک محدود نہیں بلکہ اعداد و شمار، منصوبوں، اور زمینی حقائق کی صورت میں نظر آتی ہے۔ اس سفر میں شکیل قادر خان جیسے باصلاحیت اور فرض شناس افسران کی خدمات کسی اثاثے سے کم نہیں۔ ان کی قیادت نے صوبے میں نظم و نسق کی بحالی، عوامی اعتماد کی واپسی اور ایک مؤثر و فعال ریاستی ڈھانچے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ہے بلوچستان کی تاریخ ان کے دورِ خدمات کو ایک روشن باب کے طور پر محفوظ رکھے گی — ایک ایسا باب جس میں خلوص، دیانت، وژن اور عوام دوستی کے نقوش نمایاں ہیں۔




