امریکا کی وفاقی عدالت نے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ پر پابندی کے امریکی صدر کے فیصلے کو معطل کردیا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے ضلع کولمبیا کی وفاقی عدالت کے جج کارلس نکولس نے ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ کی فوری پابندی کو معطل کردیا۔
مذکورہ جج نے تین دن قبل ہی ٹک ٹاک کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر مختصر سماعت کے دوران عندیہ دیا تھا کہ وہ امریکی صدر کے پابندی کے فیصلے کو معطل کردیں گے۔
ٹک ٹاک نے گزشتہ ماہ 24 اگست کو امریکی صدر کی جانب سے ایپلی کیشن پر امریکا میں پابندی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ٹک ٹاک نے امریکا میں اپنی پابندی کو اظہار رائے کی آزادی کے خلاف قرار دیا تھا۔
امریکی حکومت نے ابتدائی طور پر 7 اگست کو ٹک ٹاک اور وی چیٹ کو 45 دن کے اندر اپنے امریکی اثاثے کسی امریکی کمپنی کو فروخت کرنے کی مہلت دیتے ہوئے انہیں خبردار کیا تھا کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو انہیں امریکا میں بند کردیا جائے گا۔
تاہم بعد ازاں 16 اگست کو امریکی صدر کی جانب سے 45 دن کی مہلت میں مزید 45 دن کا اضافہ کردیا گیا تھا، جس کے بعد ٹک ٹاک نے متعدد امریکی کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات شروع کیے تھے اور رواں ماہ کے وسط تک ٹک ٹاک امریکی کمپنی اوریکل اور وال مارٹ کے ساتھ مشترکہ طور پر امریکا میں کام کرنے کے لیے رضامند ہوچکی تھی۔
ٹک ٹاک کی جانب سے وال مارٹ اور اوریکل کے ساتھ کام کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کرنے کے باوجود امریکی حکومت نے 19 ستمبر کو اعلان کیا کہ 20 ستمبر سے چینی ایپ وی چیٹ پر پابندی عائد کردی جائے گی جب کہ ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ پر 27 ستمبر سے پابندی عائد کردی جائے گی۔
ساتھ ہی امریکی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ٹک ٹاک پر مکمل پابندی کا اطلاق رواں برس 12 نومبر تک امریکی صدارتی انتخابات کے ایک ہفتے بعد کردیا جائے گا۔
امریکی حکومت کی جانب سے 27 ستمبر سے ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ کی پابندی کے خلاف چینی ایپ نے امریکی عدالت سے رجوع کیا تھا۔
امریکی عدالت نے چینی ایپ کی درخواست پر 27 ستمبر کو سماعت کرتے ہوئے ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ پر پابندی کے حکومتی فیصلے کو معطل کردیا۔

