اہم خبریںبین الاقوامی

ٹیکساس اسکول فائرنگ: پولیس کا بندوق بردار پر حملہ کرنے میں انتظار کا فیصلہ غلط تھا

پہلی بار کال کرنے والی لڑکی نے آپریٹر سے 12:43 پر درخواست کی کہ ‘برائے مہربانی پولیس کو ابھی بھیجیں’، بعد ازاں 4 منٹ بعد دوبارہ کال کی۔

محکمہ ‘پبلک سیفٹی’ کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ ٹیم آخری کال آنے کے 3 منٹ بعد چوکیدار کی چابی سے کلاس کا دروازہ کھول کر ٹیم اندر داخل ہوئی۔

خیال رہے کہ امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک ایلیمنٹری اسکول میں ایک 18 سالہ بندوق بردار نے 24 مئی کلاس رومز میں جا کر فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں کم از کم 19 بچوں سمیت 21 ہلاک ہو گئے ہیں۔

حملہ آور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں مارا گیا تھ گورنر گریگ ایبٹ نے بتایا تھا کہ مرنے والے 2 بالغ افراد میں ایک استاد بھی شامل ہے۔

روب ایلیمنٹری اسکول میں فائرنگ کا یہ تازہ واقعہ،دسمبر 2012 میں نیو ٹاؤن (کنیکٹی کٹ) میں سینڈی ہک ایلیمنٹری میں ایک بندوق بردار کے ہاتھوں 20 بچوں اور 6 بالغ افراد کی ہلاکت کے بعد سے امریکی گریڈ اسکول میں ہونے والا سب سے مہلک حملہ ہے۔

حملے کے کئی گھنٹے بعد بھی اہل خانہ اپنے بچوں کے بارے میں کسی بیان کا انتظار کرتے رہے، شہر کے سوک سینٹر کے باہر خاندانوں کو جمع ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔

اسکول کے ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ ہال ہیرل نے کہا ’آج میرا دل ٹوٹ گیا، اسکول کی تمام سرگرمیاں فی الحال منسوخ کردی گئی ہیں، ہم ایک چھوٹی سی کمیونٹی ہیں اور ہمیں اس تکلیف سے گزرنے کے لیے آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے‘۔

جس کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن حملے کے چند گھنٹے بعد قوم کو مخاطب کرتے ہوئے بندوق کی نئی پابندیوں کا مطالبہ کرنے کے لیے تیار نظر آئے۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ’بحیثیت قوم ہمیں پوچھنا ہوگا کہ خدا کے واسطے ہم کب بندوق کی لابی کے سامنے کھڑے ہوں گے؟ خدا کے واسطے ہم کب وہ کریں گے جو ہمیں بہرحال کرنا ہے؟‘

انہوں نے سوال کیا تھا ’ہم اس قتل عام کے ساتھ رہنے کو کیوں تیار ہیں؟ میں پریشان اور تھک چکا ہوں، ہمیں قدم اٹھانا ہوگا‘۔

بہت سے زخمیوں کو اوولڈے میموریل ہسپتال پہنچایا گیا جہاں عملے کے ارکان اور متاثرین کے لواحقین کو کمپلیکس سے باہر نکلتے وقت روتے ہوئے دیکھا گیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button