اسلام آباد : قومی ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ نے کہا کہ بابراعظم کو لیڈر بننے کیلئے نوجوان کھلاڑیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، مصباح الحق کو ٹیسٹ کوچ جبکہ ٹی ٹونٹی کے لئے الگ کوچ مقرر کیا جانا چاہیے ، باؤلرز بہت زیادہ سکور دے رہے ہیں بابراعظم کے آؤٹ ہوتے ہی آدھی ٹیم بیٹھ جاتی ہے ، مڈل آرڈر پریشر میں آجاتا ہے ، قومی ٹیم کو ڈائریکٹر کی ضرورت ہے ۔ منگل کو اپنے ایک انٹرویو کے دوران رمیز راجہ نے کہا ہے کہ ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل نظر نہیں آرہا۔ مڈل آرڈر نہیں ہے ، پاکستان ابھی تک کمبی نیشن کی تلاش میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زمبابوے کے خلاف نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہیے تھا۔ زمبابوے جیسی ایک کمزور ٹیم کے خلاف پی ایس ایل اور ڈومیسٹک میں کارکردگی دکھانے والے نوجوان کھلاڑیوں کو آزمایا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہارنے سے گھبرانا شروع کردیں تو پھر ہار یقینی ہوجاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کو ڈائریکٹر کی ضرورت ہے ۔ مصباح الحق کو ٹیسٹ کوچ اور ٹی ٹونٹی کے لئے الگ کوچ مقرر کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ ایک مختلف کرکٹ ہے ۔ رمیز راجہ نے کہا کہ بابراعظم کو ایک لیڈر بننا ہے اور وہ لیڈر تبھی بن سکیں گے جب وہ نوجوان کھلاڑیوں کو ساتھ لے کر چلیں، انہیں اگر بڑا لیڈر بننا ہے تو چانس لینا ہوگا، سلیکشن ٹھیک کرنی ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مستقل بنیادوں پر زیادہ کوچز نہیں لگانے چاہئیں، ہمیں اس پر دھیان دینا ہوگا، بڑے نام کے کوچز کا استعمال انڈر 19 ، فرسٹ کلاس اور ہائی پرفارمنس سنٹر میں کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ زمبابوے کی مشکل وکٹوں کی بات کرنا مناسب نہیں ہے ، جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے بعد کچھ مشکل نہیں رہتا۔ ہماری باؤلنگ لائن بہت زیادہ سکور دے رہی ہے ۔ بابراعظم آؤٹ ہوتے ہیں تو آدھی ٹیم بیٹھ جاتی ہے ۔ مڈل آرڈر پریشر میں آجاتا ہے ۔ رمیز راجہ نے سینئر کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کئے جانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ ہار جائیں تو اتنا دکھ نہیں ہوتا ، 40 سال سے زائد عمر کے کھلاڑیوں کی پرفارمنس آدھی رہ جاتی ہے ، پرانے کھلاڑی اگر ورلڈ کپ جتوا دیں تو یہ ایک معجزہ ہی ہوگا۔

