وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ

36

دونوں رہنماؤں کی غزہ میں نہتے فلسطینوں پر جاری اسرائیلی بربریت پر گہری تشویش کا اظہار.

وزیرِ اعظم کی اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کی امداد کی ترسیل کی بندش اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والی غذائی قلت کی شدید الفاظ میں مذمت.

وزیرِ اعظم کی غزہ میں دن بہ دن بڑھتے انسانیت سوز صہیونی مظالم کی بھی بھرپور مزمت.

پاکستان غزہ میں اسرائیل کی جانب سے امداد کی بندش کو ختم کرنے اور بھوک سے سسکتے بچوں اور خواتین سمیت فسلطینی بہن بھائیوں تک اشیاءِ خوردونوش کی ترسیل بحال کرنے کے حوالے سے ہر سطح پر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا. وزیرِ اعظم

پاکستان صہیونی ظلم و جبر کا شکار نہتے فلسطینی بہن بھائیوں کی سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھے گا. وزیرِاعظم

پاکستان اقوامِ عالم اور دنیا کے ہر فورم پر اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کی آواز بن کر ان پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا. وزیرِ اعظم

جہاں حکومت پاکستان غزہ میں ظلم کا شکار فلسطینی بہن بھائیوں کو سفارتی ذرائع سے امدادی سامان پہنچاتی رہی، وہیں الخدمت فاؤنڈیشن نے ملک گیر مہم چلا کر غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل یقینی بنائی. وزیرِ اعظم

وزیرِ اعظم نے امیر جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن کی غزہ متاثرین کیلئے امدادی سامان بھیجنے کے اس احسن اقدام اور کوششوں کو سراہا.

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ فلسطینی راہنماؤں نے مجھ سے رابطہ کیا ہے اور اپیل کی ہے وزیراعظم پاکستان قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی، غذائی امداد کی فراہمی کے لیے قائدانہ کردار ادا کریں۔

فلسطینی عوام اور پورا عالم اسلام پاکستان اور اس کی قیادت سے بڑی امیدیں رکھتے ہیں۔
وزیر اعظم اسلامی ممالک سمیت بین الاقوامی برادری سے خصوصی رابطہ کریں اور لیڈنگ رول ادا کریں۔ حافظ نعیم الرحمان

Comments are closed.