مودی کی بائیڈن سے ملاقات، وائٹ ہاؤس کے باہر سکھوں کا احتجاجی مظاہرہ

واشنگٹن : امریکی دورے میں نریندرمودی کی شرمندگیوں کا سلسلہ جاری رہا ، وائٹ ہاؤس آمد پرکسی نے گھاس نہ ڈالی۔ وائٹ ہاؤس میں آمد پرامریکی صدرنے نریندرمودی کا استقبال کرنا بھی گوارا نہ کیا۔ نریندرمودی خود ہی دروازے سے اندرچلے گئے ۔ وزیراعظم عمران خان جب وائٹ ہاؤس گئے تھے تب ڈونلڈ ٹرمپ نے گیٹ پرکھڑے ہوکراستقبال کیا اورخود انہیں اندرلیکرگئے تھے ،نریندرمودی کی امریکی صدرجوبائیڈن سے ملاقات ہوئی ۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے کیے گئے مظالم نے ان کا پیچھا امریکا میں بھی نہ چھوڑا، بھارتی وزیراعظم کے خلاف امریکی عدالت نے سمن جاری کردیا تو اب واشنگٹن آمد پر سکھ مظاہرین نے احتجاج شروع کر دیا جبکہ کشمیرآج احتجاج کریں گے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ روابط میں تجارت کی اہمیت پر بات کی۔ امریکی صدر نے دنیا کی دونوں بڑی جمہوریتوں کے مابین بندھن کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا، عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے اقدامات پر بھی بات کی۔ دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کی قیام گاہ ولرڈ ہوٹل کے باہر سکھ مظاہرین نے دھرنا دیا،سکھ فار جسٹس کمیونٹی نے خالصتان کے پرچم لہرا دئیے ، مظاہرین نے مودی کے خلاف اور خالصتان کی آزادی کے لیے نعرے بازی بھی کی۔کشمیری مودی کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آنے کے موقع پر آج احتجاجی مظاہرے کریں گے ، صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود کشمیریوں کے مظاہرے میں شرکت کریں گے اور مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی دہشتگردی کے خلاف آواز بلند کریں گے ، علاوہ ازیں بیرسٹر سلطان محمو دنے او آئی سی کے نیو یارک میں ہونے والے کشمیر کانٹیکٹ گروپ کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں کہا بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کی انتہا کر دی ہے ،او آئی سی مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کروانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے کشمیر پر اپنا نمائندہ مقرر کرے ۔




