اسلام آباد: 15 جولائی، 2025
ایران، عراق کے مقدس مقامات کی زیارات کا نیا مربوط نظام لا رہے ہیں ۔ پرانا نظام جلد ختم ہو جائے گا ۔ خواہش مند کمپنیاں وزارت کے ساتھ فوری رجسٹرڈ ہوں ۔ یہ بات وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے زائرین گروپ آرگنائزرز (ZGOs) کا نیا نظام منظور کیا تھا جس پر عمل کرتے ہوئے وزارت نے ایک اشتہار جاری کیا تھا ۔ اب تک 14 سو سے زائد کمپنیوں نے وزارت کے ساتھ بطور زیارت گروپ آرگنائزر رجسٹرڈ ہونے کے لیے درخواستیں جمع کروائی ہیں ۔ سیکورٹی کلیئر کرنے والی 585 کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وزارت کی ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن کا عمل فوری مکمل کرتے ہوئے اپنی دستاویزات 31 جولائی سے قبل وزارت کو ارسال کریں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک دوسرے اشتہار کے ذریعے نئی درخواستیں بھی طلب کی گئی ہیں جس کے تحت وزارت کے ساتھ بطور زیارت گروپ آپریٹر ZGO کام کرنے کی خواہش مند کمپنیاں 10 اگست تک درخواستیں جمع کروا سکتی ہیں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ حج و عمرہ کے ساتھ زائرین کی ذمہ داری بھی وزارت مذہبی امور کی ذمہ داری ہے۔ ماضی میں عراق و شام و ایران جانے والے زائرین کے لئے خاص نظام نہیں ہوتا تھا ۔ زائرین کو منظم کرنے کی منظوری سال 2021میں دی گئی تاہم گذشتہ دورِ حکومت میں اس پر قابل ذکر پیش رفت نہ ہو سکی۔ اب وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر زیارت مینجمنٹ پالیسی پر عمل درآمد تیز کیا گیا ہے۔ جس طرح حج ٹورآپریٹرز کے ذریعے عازمین حج جاتے ہیں اسی طرح زائرین بھی رجسٹرڈ زائرین گروپ آرگنائزرز کے ذریعے ہی جائیں گے ۔ حج ٹور آپریٹرز کی طرح زائرین کے لئے بھی زائرین ٹورآپریٹرز اخراجات کا پیکیج دیں گے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اور سیکرٹری مذہبی امور ڈاکٹر سید عطا الرحمن سہ ملکی اجلاس کے سلسلے میں ایران میں ہیں ۔ ایران ، عراق اور پاکستان کے درمیان زائرین کا مسئلہ جدید کمپیوٹرائزڈ نظام سے منسلک کیا جارہا ہے ۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں سردار محمد یوسف نے کہا کہ زائرین کو منظم اس لئے کرنا پڑا کیونکہ چالیس ہزار پاکستانی زائرین عراق شام و ایران جاکر وہاں رہ گئے ۔ اگر حکومت پاکستان کے پاس پورا ریکارڈ ہوتا تو ہمیں معلوم ہوتا کہ کون سے زائرین کہاں گئے ۔ ماضی میں عراق ، ایران اور شام نے بھی پاکستان سے یہ مسئلہ اٹھایا تھا ۔


