امریکا کی 244سالہ تاریخ بدلنے والی ہے

واشنگٹن : شکست خوردہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی جیت کا اعلان کر دیا ۔ اپنے ٹویٹ میں انھوں نے لکھا ہم جیتیں گے ۔ ٹرمپ کی ترجمان نے کہا صدارتی انتخاب 2020 میں جو بائیڈن کی فتح کے خلاف قانونی جنگ ‘صرف شروعات ہے ۔وائٹ ہاؤس میں پریس سیکرٹری کے مطابق ‘الیکشن ابھی اختتام سے بہت دور ہے ۔ یہ ختم نہیں ہوا۔’امریکا کی 244 سالہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک صدر نے الیکشن ہارنے کے بعد وائٹ ہاؤس نہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہو۔اسی وجہ سے صدر ٹرمپ کے اعلان نے ملک میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے ۔ امریکی آئین کے مطابق یہ واضح ہے کہ موجودہ صدارتی دور 20 جنوری کی شام کو اختتام پذیر ہوجائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس قانونی حق اور وسائل ہیں کہ وہ ووٹنگ کے نتائج کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ اگر وہ 20 جنوری تک ایسا نہ کرسکے تو نئے صدر کا اعلان ہوجائے گا اور ٹرمپ کو دفتر چھوڑنا ہوگا۔ نو منتخب صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکا کی حکومت اس قابل ہے کہ وائٹ ہاؤس میں موجود کسی گھس بیٹھیے کو باہر نکال سکے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کام امریکی مارشلز یا سیکرٹ سروس کے پاس جائے کہ وہ ٹرمپ کو صدارتی رہائش گاہ سے باہر لے آئیں۔سیاسی ماہرین کا کہنا تھا کہ ‘20 جنوری کی شام کے بعد بھی اگر فوج کو حکم دیا جاتا ہے کہ صدر کو سلیوٹ کریں تو اس سے فوج ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہوجائے گی۔ماہرین کے مطابق صدر کے اعلان نے شہروں میں پُرتشدد واقعات کے امکان بڑھا دیئے ہیں۔



