ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ٹرانسپورٹرز کوچ بس و منی بس مالکان اور ویگن مالکان کیساتھ علیحدہ علیحدہ اجلاس منعقد کیا گیا

15

ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ٹرانسپورٹرز کوچ بس و منی بس مالکان اور ویگن مالکان کیساتھ علیحدہ علیحدہ اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں چمن شہر سے تمام ٹرانسپورٹ کمپنی کوچ بس و منی بس ویگن ٹرک اور دیگر گاڑیوں کی چمن شہر سے چمن ماسٹر پلان منتقلی کے فوائد اور وہاں پر فراہم کی گئی سہولیات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا دو علیحدہ علیحدہ اجلاسوں میں چمن شہر کے تمام ٹرانسپورٹرز بس و ویگن مالکان اور سربراہان نے شرکت کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ شہر میں ٹریفک کی روانی صفائی ستھرائی یقینی بنانے شہر میں شور و غل کم کرنے کاروبار کو وسعت دینے اور طلباء و طالبات اور دیگر اداروں کی آفیسران اور سٹاف کی اپنے سکولز اور محکموں میں بروقت پہچنے اور ایمرجنسی صورتحال میں مریضوں کو بروقت ہسپتال پہنچانے اور انکی بروقت علاج و معالجہ کرنا اور دیگر انگینت فوائد پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی انہوں نے ٹرانسپورٹرز کو انتظامیہ کے ساتھ تعاون اور شہر سے تمام گاڑیوں کو چمن ماسٹر پلان منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں مفاد عامہ کی خاطر ہمہ وقت ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار رہنا چاہیے انہوں نے کہا کہ آج کے بعد شہر میں ہر قسم کی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی داخلے آور کھڑے کرنے پر زمہواروں کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی بعد ازاں ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے ٹرانسپورٹروں جس میں بس مالکان اور ویگن مالکان اور دیگر مشران و سربراہان کو چمن ماسٹر پلان کا وزٹ کروایا اور تمام مالکان کو انکی دفاتر مسافروں کی انتظار گاہیں اور دیگر ضروری سہولیات کا تفصیلی معلومات فراہم کیں اور سیر کروایا گیا۔ ڈی سی چمن نے کہا کہ اگر چہ ابتدائی چند ایام میں مسافروں اور ٹرانسپورٹروں کو تھوڑی تکالیف اور مشکلات کا سامنا ہو گا تاہم چند دنوں میں یہ تمام مسائل اور مشکلات سکھ اور آرام میں بدلیں گی کیونکہ چمن ماسٹر پلان اڈے میں ٹرانسپورٹرز اور مسافروں کیلئے ہر قسم کی سہولیات جس میں واش رومز انتظارِ گاہیں مسجد اور دیگر تمام ضروری سہولیات فراہم کی گئیں ہیں لہذا ٹرانسپورٹرز آج کے بعد چمن شہر کی خوبصورتی میں مزید نکھار پیدا کرنے کیلئے چمن شہر سے اپنے ہر قسم کی ٹرانسپورٹ اڈوں کو چمن ماسٹر پلان منتقل کریں اور زمہداری کا ثبوت دیں

Comments are closed.