پیشہ، مجبوری یا مشن؟ – چمن کے صحافیوں کی بےآواز کہانی

18

رپورٹ ضیاء آغا۔
چمن، بلوچستان کا وہ شہر جو سرحدی سیاست، تجارت اور بدامنی کا مرکز ہے، یہاں کی گلیوں میں گردش کرتی خبریں اکثر قومی میڈیا کی توجہ سے محروم رہتی ہیں۔ مگر ان خبروں کے پیچھے جو چہرے ہیں — وہ خاموش، غیرمحفوظ اور بےتنخواہ صحافی — وہ خود بھی ایک خبر بن چکے ہیں۔
یہ کہانی تنخواہوں کے بغیر، پیشہ وارانہ ذمہ داری نبھاتے ان رپورٹرز کی ہے، جو کبھی مجبوری میں، کبھی مشن کے تحت اور کبھی صرف معاش کی تلاش میں، خبروں کے تعاقب میں دن رات ایک کر دیتے ہیں۔
چمن کا صحافی – ایک جدوجہد کرتی شناخت
نعمت اللہ سرحدی، جو وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں:
“قومی میڈیا کو چمن کے صحافیوں کی کوئی پروا نہیں، کوئٹہ میں بیٹھے چند صحافیوں کی اجارہ داری ہے، جو نہ صرف ہماری محنت پر پردہ ڈالتی ہے بلکہ ہمارے معاوضے بھی دباتی ہے۔”
ان کا کہنا ہے کہ چمن میں صحافت اب ایک جذبہ نہیں، بلکہ ایک معاشی چیلنج بن چکی ہے۔ اکثر رپورٹرز کو یا تو تنخواہ نہیں دی جاتی یا پھر اتنی قلیل کہ گزارا بھی ممکن نہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اکثر صحافی صرف اُن موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں جن میں اداروں یا چینل مالکان کی دلچسپی ہو — عوامی مسائل اکثر پردے کے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
“خبر لگتی ہے تو پیسے ملتے ہیں”
چمن کے ایک سینئر صحافی، جو نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے، کہتے ہیں:
“میں دس سال سے صحافت میں ہوں، لیکن آج تک حکومت کی مقرر کردہ کم از کم 37 ہزار تنخواہ بھی نہیں ملی۔ ہم مجبوری میں خبر پر پیسے لیتے ہیں، اگر تنخواہ اچھی ہو، تو کس کو ضرورت ہے کسی سے پیسے لینے کی؟”
یہ بیان صرف ایک فرد کی نہیں، چمن کے درجنوں رپورٹرز کی نمائندگی کرتا ہے جو “زرد صحافت” کا الزام سہتے ہیں، مگر اس کا سبب تنخواہوں کی عدم دستیابی ہے۔
گھر، خاندان، اور خبروں کے درمیان چکی:
تنخواہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ صحافی اکثر دوسرے روزگار کی تلاش میں رہتے ہیں۔ کسی کے بچے کی فیس دینی ہو، یا والدین کی دوا خریدنی ہو — ایک غیرمحفوظ صحافی کہاں جائے؟ یہی وجہ ہے کہ ان کی توجہ خبروں سے ہٹ کر صرف روزی روٹی تک محدود رہتی ہے۔
یونین کی کوششیں اور حکومتی بےحسی
خلیل احمد، صدر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس، اس سنگین مسئلے کی تصدیق کرتے ہیں:
“اکثر صحافیوں کو صرف مائیک اور لوگو دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہم اداروں سے بارہا کہہ چکے کہ جو صحافی فل ٹائم کام کر رہے ہیں، انہیں تنخواہیں دی جائیں۔”
ان کے مطابق کم تنخواہ یا تنخواہ نہ ملنے کے باعث صحافی پیشہ وارانہ معیار پر سمجھوتہ کرتے ہیں۔ صحافی جب گھر کا خرچ پورا نہ کر سکے تو “لفافہ کلچر” اور بلیک میلنگ جیسے رجحانات پروان چڑھتے ہیں۔
قانون، کاغذ پر زندہ – زمین پر مردہ
پاکستان یونائٹڈ ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری پیر محمد کاکڑ کے مطابق:
الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں کم از کم تنخواہ 37000 روپے ہے۔
مینیمم ویج بورڈ قانون 2021 سے پاکستان بشمول بلوچستان میں نافذ ہے۔
ادارے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹیٹیوٹ میں رجسٹریشن کے پابند ہیں تاکہ ورکرز کو پنشن، ڈیتھ گرانٹ اور دیگر سہولیات مل سکیں۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ صحافی نہ میں رجسٹرڈ ہیں، نہ انہیں قانونی تحفظ حاصل ہے۔ لائسنس کی شرائط صرف کاغذی خانہ پُری تک محدود ہیں۔

لیبر ڈیپارٹمنٹ کی خاموشی
جب سیکرٹری لیبر ڈیپارٹمنٹ، نیاز نچاری سے سوال کیا گیا تو ان کا موقف تھا کہ اگر کوئی صحافی شکایت کرے تو وہ ضرور کارروائی کریں گے۔ مگر آج تک کسی میڈیا ہاؤس کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔
البتہ ڈائریکٹر جنرل لیبر، احمد شا ہوانی کے مطابق رواں سال 1304 خلاف ورزیاں رجسٹر کی گئیں جو اکثر ملازمین کی حقوق کے حوالے سے تھی بعض ملازمین میڈیا کے بھی ہیں ۔ مارچ سے کارروائیاں تیز کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے — لیکن صحافیوں کو اب بھی یقین نہیں۔

ذہنی صحت، صحافی اور خاموش اذیت
کلینکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر مہرین کہتی ہیں:
“پاکستان، خصوصاً بلوچستان میں صحافی مالی و سیکیورٹی خدشات کے باعث نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ ڈپریشن، بےچینی، اور جذباتی تھکن — یہ سب انکی کارکردگی پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔”

“میں ادھار پر گزارہ کرتا ہوں” – چمن پریس کلب کے سابق نائب صدر
جلال خان اچکزئی کہتے ہیں:
“اداروں سے تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ہم کئی بار ادھار لے کر گزارہ کرتے ہیں۔ میرے جیسے کئی صحافیوں کا واحد ذریعہ آمدن صحافت ہی ہے، مگر اعزازیہ کے نام پر 10 ہزار روپے دے کر ہماری عزت نفس مجروح کی جاتی ہے۔”

اختتامیہ: صحافت – پیشہ یا قربانی؟
چمن کے صحافیوں کی یہ کہانی ایک سوال چھوڑ جاتی ہے: کیا صحافت واقعی ایک مشن ہے، جب آپ کی میز پر فیس کا بل اور بچوں کی فیس پڑی ہو؟
میڈیا مالکان، حکومت ، اور صحافتی یونینز کو یہ ماننا ہوگا کہ تنخواہ صرف رقم نہیں، ایک صحافی کی خودمختاری، غیر جانبداری اور عزت نفس کی ضمانت ہے۔ اگر وہی نہ دی جائے تو زرد صحافت، بلیک میلنگ، اور خبر پر سودا بازی کی فصل خود بخود اُگے گی۔
چمن کے صحافی صرف اپنی آواز نہیں، پورے نظام کے آئینہ دار ہیں — ایک ایسا نظام جو خود کو “آزاد میڈیا” کہتا ہے، مگر اپنے سپاہیوں کو غلامی کی زنجیروں میں رکھتا ہے۔

Comments are closed.