
تربت : بارڈر ٹریڈ یونین نے مرحلہ وار احتجاجی شیڈول کا اعلان کردیا، 27 اپریل منگل کو تربت سمیت بلیدہ، زامران، ہوشاپ اور ہیرونک میں شٹرڈاؤن، 29 اپریل جمعرات کو ایم ایٹ شاہراہ ڈی بلوچ پر بلاک کی جائے گی اس کے بعد مکران بھر میں اسٹیئرنگ جام ہڑتال ہوگی۔بارڈر ٹریڈ یونین کے جنرل سیکرٹری گلزار دوست نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کیچ نے 12 اپریل کو پہیہ جام کے دوران ہم سے اگلے دس دنوں میں بارڈر کا مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کرایا تھا لیکن دس دن گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی اور نہ ڈپٹی کمشنر کیچ کی طرف سے گزشتہ روز کی ملاقات میں ہمیں مثبت پیغام دیا گیاجس کے بعد بارڈر ٹریڈ یونین مرحلہ وار احتجاجی شیڈول کااعلان کرتی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران بارڈر ٹریڈ یونین کے صدر محمد اسلم، نائب صدر میر شہداد دشتی، پزیر شبیر، نور احمد، حاجی اختر، ندیم بلیدی، کمبر واحد، غلام جان شمبے زئی و دیگر رہنما بھی موجود تھے۔گلزار دوست نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ سے نہ صرف مکران بلکہ بلوچستان کے دیگر ڈویژن بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ منسلک ہیں، بلوچستان کے ساتھ وفاق کا رویہ روز اول سے سوتیلی ماں جیسی رہی ہے،ہمارے ہاں نہ صنعتی و زرعی ترقی ہے نہ تعلیمی و صحت کے فعال ادارے موجود اور نہ ہی سرکاری نوکریاں ہیں جس میں ہمارے لوگ برسر روزگار ہوسکیں، اپنی مدد آپ کے تحت ہم لوگ کئی دہائیوں سے بارڈر ٹریڈ کے زریعے اپنے بچوں کی کفالت کرتے آرہے ہیں، بارڈر کو مکمل بند یا بڑے مگرمچھوں کے حوالے کیا جارہا ہے جس سے عام لوگ اور غریب دو وقت کی روٹی کے محتاج بن جائیں گے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے پالیسی بنا رکھی ہے کہ وہ عام بلوچوں کو نان شبینہ کا محتاج بنا کر چھورے گے اس لیے ہمارے گرد معاشی گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اب شاید بلوچوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے یہ ان کا آخری حربہ ہے، بہت ہی ٹیکنیکل طریقے سے اب جوذریعہ معاش جسے ہم اپنی مدد آپ کے تحت بڑی مشقت سے کماتے ہیں ہم سے چھین کر اپنے ہاتھوں لینے کی منصوبہ بندی کر کے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم بارڈر کی بندش یا اسے بڑے مگرمچھ اور من پسند عناصر کے ہاتھوں سونپنے کے خلاف پر امن اور جمہوری احتجاج کا ہر جایز طریقہ اپنا کر اس پر جدوجہد کریں گے، ٹریڈ یونین کے عہدہ داروں نے مرحلہ وار احتجاجی شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں 27 اپریل منگل کو تربت سمیت بلیدہ، زامران، ہوشاپ اور ہیرونک میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی،دوسرے مرحلے میں 29 اپریل جمعرات کو ایم ایٹ شاہراہ کو ڈی بلوچ پوائنٹ پر مکمل بلاک کریں گے البتہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایمبولینس کو جانے کی اجازت ہوگی اس کے بعد بھی اگر مطالبات منظور نہیں کیے گئے تو بارڈر سے وابستہ تمام گاڑیوں کو کھڑی کرکے مکمل اسٹیئرنگ جام ہڑتال کریں گے جس کے بعد کوئی گاڑی بارڈر سے ایرانی تیل سمیت خوردنی اشیاء نہیں لائے گا اگر یہاں پٹرول اور خوارک کا قحط پڑا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی، ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایرانی بارڈر سے تیل کی سپلائی ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ نہیں یہ محض ایک بہانہ ہے ایف اے ٹی ایف ملک میں کرپشن، دہشت گردی،منی لارڈنگ سمیت اسی نوعیت کے دیگر معاملات کو دیکھتی ہے مگر انتظامیہ کا کمزور موقف یہ ہے کہ بارڈر سے ایرانی تیل کی سپلائی ایف اے ٹی ایف کا معاملہ ہے جو انتہائی بھونڈا مذاق اور عقل و ادراک سے عاری بہانہ ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ہماری احتجاجی شیڈول کے باوجود بارڈر کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو اس کے بعد پورے مکران میں احتجاجی شیڈول کا اعلان کریں گے۔




