
کوئٹہ : پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ڈرگس کورٹ، کنزیومر کورٹ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سمیت وفاقی وزرات قانون کی کئی زمہ داریاں صوبائی دائرہ اختیار میں آچکی ہیں جن پر قانون سازی کی ضرورت ہے، صوبائی اسمبلی میں ہونے والی قانون سازی کے تیکنیکی امور کو بہتر بناکر مفاد عامہ کے قوانین کو معاشرتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو یہاں محکمہ قانون و پارلیمانی امور کے اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سیکرٹری قانون اکبر حریفال اور مختلف شعبوں کے سربراہان نے پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور کو تفصیلی بریفنگ دی، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ قانون سے کوئی بھی بالا تر نہیں جملہ سرکاری امور کی انجام دہی میں رائج قوانین، رہنماء اصولوں اور پالیسز پر عمل کیا جائے تو گڈ گورننس کے قیام میں مدد مل سکتی ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ قانون تمام انتظامی محکموں کی قانونی رہنمائی کا معاون ڈیپارٹمنٹ ہے اس لئے اس کی اہمیت غیر معمولی نوعیت کی حامل ہے محکمہ قانون میں ہر سطح پر میرٹ پر فیصلے ہونگے تو اس کے ثمرات سے معاشرتی سدھار آئیگا اور عام آدمی کی انصاف تک رسائی ممکن ہوگی ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ سندھ کی طرز پر ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے خود مختیار صوبائی ادارے کی تشکیل پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے اس ضمن میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لیکر فزیبلٹی مرتب کی جائے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ محکمہ قانون کی استعداد کار میں اضافے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ سرکاری اور عوامی سطح پر قانونی امور حقیقی معنوں میں عوام کی سہولت اور قانونی معاونت کا سبب بنیں بلوچستان میں محکمہ قانون کو ایک فعال اور متحرک ڈیپارٹمنٹ بنایا جائے گا اس ضمن میں محکمہ سے وابستہ تمام ادارے اپنی تجاویز سے تحریری طور پر آگاہ کریں ہماری کوشش ہوگی کہ تمام زیر التواء امور کو نمٹا کر کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جائے اور فعالیت کی موثر حکمت عملی وضع کی جائے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے ہدایت کی کہ محکمہ قانون و پارلیمانی امور کے تمام شعبے ہفتہ وار اور روزآنہ کی علیحدہ علیحدہ بریفنگ کا اہتمام کریں تاکہ پوائنٹ ٹو پوائنٹ درپیش مسائل زیر بحث لاکر ان کا پائیدار حل تلاش کیا جائے،



