بلوچستان حکومت کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر سوراب فیصل فہیم یوسفزئی کی زیر صدارت ڈی سی کمپلیکس سوراب میں ایک اہم کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا

18

سوراب، 24 جولائی ۔ بلوچستان حکومت کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر سوراب فیصل فہیم یوسفزئی کی زیر صدارت ڈی سی کمپلیکس سوراب میں ایک اہم کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مختلف محکموں کے ضلعی افسران بھی موجود تھے جنہوں نے عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔کھلی کچہری میں شریک دیگر افسران میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سلمان علی بلیدی، اسسٹنٹ کمشنر سوراب شئے اکبر علی بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر مہرآباد اسد اللہ سمالانی، تحصیلدار سوراب محمود احمد کرد، میجر رسالدار الطاف حسین ہارونی، سپریڈنٹ ڈی سی آفس فضل محمد قمبرانی اور محکمہ تعلیم، صحت، پی ایچ ای، سوشل ویلفیئر، بی اینڈ آر، خزانہ، میونسپل کمیٹی، ڈسٹرکٹ کونسل، واٹر مینجمنٹ، واپڈا سمیت دیگر اداروں کے افسران شامل تھے۔ کھلی کچہری میں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی، سڑکوں کی خستہ حالی، بجلی کی فراہمی، صفائی ستھرائی، بلدیاتی سہولیات سمیت متعدد مسائل، شکایات اور تجاویز براہ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کیں۔ڈپٹی کمشنر فیصل فہیم یوسفزئی نے تمام شکایات اور مسائل کو نہایت توجہ سے سنا اور موقع پر موجود افسران کو واضح ہدایات جاری کیں کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا ک”کھلی کچہریوں کا مقصد عوام کو ایک ایسا موثر اور شفاف پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ بلا خوف و تردد اپنی آواز براہ راست ضلعی انتظامیہ تک پہنچا سکیں۔ ہم عوامی مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں اور اس کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے مزید یقین دہانی کروائی کہ ضلعی انتظامیہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے دن رات کوشاں ہے اور مستقبل میں بھی کھلی کچہریوں کا انعقاد تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا تاکہ عوامی ریلیف ممکن بنایا جا سکے۔عوامی نمائندوں اور شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اظہار تشکر کیا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کے عوام دوست اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔یہ کھلی کچہری ضلعی انتظامیہ اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے، جو عوامی خدمت کے جذبے کی حقیقی عکاس ہے۔

Comments are closed.