بھارت،آکسیجن بحران شدید،مزید2621ہلاکتیں

نئی دہلی : بھارت میں کورونا کی خطرناک ترین د وسری لہر اپنے عروج پرہے ،ملک کی بیشتر ریاستوں میں آکسیجن کی شدید قلت ہے ،آکسیجن کی گاڑیوں کی سکیورٹی پولیس نے سنبھال لی،دہلی کے گنگارام ہسپتال میں آکسیجن نہ ملنے سے کورونا کے 30مریض ہلاک ہوگئے ۔بڑے ہسپتال میں گنجائش ختم ہوگئی،شمشان گھاٹ بھی لاشوں سے بھرگئے ۔ادویات کی بھی شدید قلت ہے ۔جمعہ کو بھارت میں 3لاکھ45ہزار نئے کیسز سامنے آئے جبکہ 2621 افرادہلاک ہوئے ،ریاست مہاراشٹرا میں 68ہزار نئے کیسز جبکہ مزید778 افرادہلاک ہوئے ،مغربی بنگال نے دیگر ریاستوں پر سفری پابندیاں عائد کردیں،بھارت میں آکسیجن کا بحران شدت اختیار کر گیا، آکسیجن کے ٹینکر پولیس سکواڈ کی نگرانی میں دہلی کے ہسپتالوں تک پہنچائے جانے لگے ۔صوبائی حکومتوں نے پولیس کی کڑی نگرانی میں اس کی سپلائی شروع کر دی، سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے آکسیجن کے پلانٹس پر بھی پولیس تعینات کر دی۔ آکسیجن پلانٹس کے باہر سلنڈر بھروانے کیلئے آئے ٹرکوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرک ڈرائیوروں نے بتایا کہ وہ گزشتہ تین دن سے سلنڈروں کو بھروانے کے منتظر ہیں۔سب سے زیادہ متاثرہ ریاست مہاراشٹرا کیلئے آکسیجن ایکسپریس بھارتی ریلوے نے چلادی، یہ پہلی ایکسپریس 7ٹینکرز پر مشتمل ہے ۔ ادھر آکسیجن کی کمی کے باعث بعض ہسپتالوں نے کورونا مریضوں کو گھر بھیجنا شروع کر دیا۔اترپردیش پولیس کے سینئر افسر کے مطابق انہیں آکسیجن کے سلنڈروں والے ٹرکوں کی حفاظت کے احکامات دیئے گئے ہیں۔ آکسیجن پلانٹ کے منیجر نے بتایا کہ وہ آکسیجن کے مزید پانچ پلانٹ بھی لگا لیں تب بھی ان کیلئے آکسیجن کی طلب پوری کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ بھارتی وزارت داخلہ نے آکسیجن لانے والی گاڑیوں کو ایمبولینس کا درجہ دیدیا۔ادھر بھارت نے آکسیجن پیدا کرنیوالے 23پلانٹس جرمنی سے فوری منگوانے کا فیصلہ کرلیا۔ادھرامریکی واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیقات میں انکشاف کیاگیاہے کہ مئی کے وسط تک بھارت میں روزانہ 5ہزار ہلاکتیں ہوسکتی ہیں۔




