اہم خبریںبین الاقوامی

کشمیر میں دہائیوں سے جاری ظلم تشدد ختم کرنیکی ضرورت : طیب اردوان

اقوام متحدہ :  ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ میں ایک بار پھر مسئلہ کشمیر اجاگرکردیا، جنرل اسمبلی سے ترک صدر کے خطاب کی مزید تفصیل کے مطابق انہوں نے کہاکہ ہم گزشتہ 74بر س سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازع کشمیر کو تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حق میں ہیں۔ وادی میں گزشتہ سات دہائیوں سے جاری ظلم وتشدد ختم کرنے کی ضرورت ہے ، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ترکی کشمیریوں کے ساتھ ہے ۔ گزشتہ سال بھی ترک صدر نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر اجاگر کیاتھا۔انہوں نے کہاکہ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے بھی اپنی مہم جاری رکھیں گے ۔ادھر سعودی عرب کے فرمانرواشاہ سلمان نے جنرل اسمبلی سے اپنے ورچوئل خطاب میں کہاکہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے عالمی کوششوں کے حامی ہیں، فرقہ واریت اور دہشت گردی کو ہوا دینے والی تنظیموں کی سرگرمیوں اور انتہا پسندانہ افکار سے نمٹنے کے سلسلے میں پرعزم ہیں۔ عالمی برادری بھی فرقہ واریت اور دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والوں سے پوری قوت کے ساتھ نمٹے ۔ اس بات پر تشویش ہے کہ ایران نے ایٹمی تنصیبات کے حوالے سے جو وعدے کیے تھے اس کے اقدامات اس سے مطابقت نہیں رکھتے ’۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بین الاقوامی قانونی قراردادوں اور اصولوں کی ہمیشہ پابندی کی اور ہر ملک کی ریاستی خودمختاری کا احترام کیا ہے ۔ کسی کے اندرونی امور میں عدم مداخلت کی پالیسی پر گامزن تھے ، ہیں اور رہیں گے ۔مشرق وسطٰی کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہر طرح کے ہتھیاروں سے پاک قرار دینے کی اہمیت کو مانتا ہے اور مانتا رہے گا۔ سعودی عرب بیلسٹک میزائلوں، ڈرون اور بارود بردار بوٹس کے حملوں سے نمٹنے کے سلسلے میں دفاع کا اپنا حق محفوظ رکھتا ہے ۔ کسی بھی طاقت کو اپنے اندرونی امور میں مداخلت کی کسی بھی قیمت پر اجازت نہیں دے گا۔ ایران ہمسایہ ملک ہے اور ہماری آرزو ہے کہ اس کے ساتھ ہمارے ابتدائی مذاکرات اعتماد کی بنیاد استوار کرنے میں نتیجہ خیز ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ تعاون پر مبنی رشتے استوار ہوں تاکہ ہمارے عوام کی امنگیں پوری ہوں اور اس کا راستہ ہموار ہو سکے ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button