بلوچستان میں کھیلوں کو فروغ دینے اور صوبے کو قومی سطح پر ایک فعال کھیلوں کا مرکز بنانے کے لیے حکومتی سطح پر سنجیدہ اور مسلسل کوششیں جاری ہیں
کوئٹہ 23 جون: بلوچستان میں کھیلوں کو فروغ دینے اور صوبے کو قومی سطح پر ایک فعال کھیلوں کا مرکز بنانے کے لیے حکومتی سطح پر سنجیدہ اور مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ انہی کوششوں کے تحت فٹبال اور قومی کھیل ہاکی کے ملک گیر ٹورنامنٹس کا بڑے پیمانے پر انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یکم جولائی سے فیفا ہاؤس کوئٹہ میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان فٹبال ٹورنامنٹ کا آغاز ہونے جا رہا ہے، جس میں ملک بھر سے 360 فٹبال ٹیمیں شرکت کریں گی۔اس حوالے سے صوبائی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے سیکریٹری کھیل دُرّا بلوچ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس میگا ایونٹ کی فاتح ٹیم کو 25 لاکھ روپے، جب کہ رنر اپ ٹیم کو 15 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ایونٹ کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں میں مشغول کرنا، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع دینا، اور بلوچستان کے پرامن، مثبت اور باصلاحیت چہرے کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔محترمہ مینا مجید بلوچ نے اعلان کیا کہ بہت جلد کوئٹہ میں آل پاکستان ویمن ہاکی گولڈ کپ کا انعقاد بھی کیا جائے گا، جس کے بعد تیسرے مرحلے میں آل بلوچستان گیمز منعقد ہوں گے، جن میں مختلف اضلاع سے تقریباً 15 ہزار کھلاڑی شرکت کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کھیل کے میدان صرف کھیلوں کے لیے ہیں، اور انہیں سیاسی جلسے جلوسوں کے لیے ہرگز استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حالیہ دنوں میں ہاکی گراؤنڈ کو ایک سیاسی جلسے کے لیے استعمال کیا گیا، جو افسوسناک اور ناقابلِ قبول عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ کھیل ہر طرح کے دباؤ کے باوجود اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کھیل کے میدان صرف کھیل ہی کے لیے مخصوص رہیں۔اس موقع پر سیکریٹری کھیل دُرّا بلوچ نے کہا کہ بلوچستان حکومت کھیلوں کے فروغ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ بیرونِ صوبہ سے آنے والے کھلاڑیوں کو مکمل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تمام شریک کھلاڑیوں کو ٹی اے/ڈی اے دیا جا رہا ہے، جب کہ ان کی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برس بھی صوبے میں کامیابی سے قومی سطح کے کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے گئے تھے، اور حکومت کا ارادہ ہے کہ یہ سلسلہ مستقبل میں مزید وسعت اور بہتری کے ساتھ جاری رہے۔
Comments are closed.