
کوئٹہ(سٹی رپورٹر) بلوچستان کے وزیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی بلوچستان کے صدر سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی رحلت سے متعلق بدگمانیاں پیدا نہ کی جائیں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد سے ہلاکت کے کوئی شواہد نہیں ملے حکومت متاثرہ خاندان کی ہر طرح سے تسلی کرانے کو بھی تیار ہے۔ ان کی رحلت سے بلوچستان ایک بڑے لیڈر سے محروم ہوگیا ہے۔حکومت عثمان لالہ کے خاندان کو ہر قسم کی مدد کرنے کے لئے تیار ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی اور بولان میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نقیب اللہ خان اچکزئی کے ہمراہ منگل کو سکندر جمالی آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے کہاکہ عثمان خان کاکڑ نے بلوچستان کی مظلومیت کو ہر فورم پر اجاگر کیا ملک دشمن عناصر عثمان لالہ کی رحلت پر سازش پیدا کرنے کے عزائم رکھتے ہیں عثمان خان کاکڑ کے خاندان سے شروع دن سے حکومت رابطے میں تھی حکومت نے ہیلی کاپڑ دینے کی پیشکش کی تھی تاکہ عثمان خان کاکڑ کو علاج کیلئے سی ایم ایچ میں بھی انتظامات مکمل تھے ۔ انہوں نے کہا کہ عثمان خان کاکڑسے متعلق حقائق عوام کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں ۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کا کہنا تھا عثمان کاکڑ کی وفات کے ساتھ ایک عہد ختم ہوا ہے عثمان خان کاکڑ کی خدمات ہر طبقے کیلئے تھیں جب حادثہ پیش آیا حکومت نے سارے ہسپتال الرٹ رکھے تھے سی ایم ایچ کو بھی محکمہ صحت نے الرٹ کیا ۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن اسمبلی نصراللہ زیرے نے سی ایم ایچ کا دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ بھی لیا تھا۔ عثمان خان کاکڑ کو ہر ممکن علاج کی سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی اور انہیں علاج کی سہولیات دستیاب تھیں۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سوشل میڈیا پر شیئر ہوچکی ہے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد کے کوئی آثار نہیں ملے ہم اور حکومت لواحقین کے دکھ میں شریک ہیں منفی پروپیگنڈہ نہ کیا جائے کہ جس سے انتشار پھیلے اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے کہا کہ اگر عثمان خان کاکڑ کے خاندان کو کسی مدد کی ضرورت ہوئی تو حکومت مدد کرے گی اہل خانہ نے پولیس سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہسپتال کامکمل ریکارڈ محفوظ تھا۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی نے بتایاکہ عثمان کاکڑ سے متعلق بریف رجسٹرڈ بنایا گیاہے۔اور عثمان خان کاکڑ کو سیوئر ہیڈ انجری ہوئی تھی مجھے ایک پرائیوئٹ ہسپتال سے اطلاع ملی تھی کہ عثمان کاکڑ کو لے کر آئے ہیں،رپورٹس کے مطابق انہیں آپریشن کی ضرورت ہے پر میں نے تمام تیاریاں کی تھیں،عثمان کاکڑ کے ہوش کا لیول 4 تھا جبکہ ڈیتھ کےلئے 3 اور عام انسان کے لئے 15 کی ضرورت ہوتی ہے،ان کی جو صورتحال تھی اس میں ضروری تھا کہ فوری آپریشن کیا جائے،آپریشن تھیٹر پر منتقل کرنے سے پہلے انہیں جھٹکے لگے گئے تھے،ان کے سر پر گرنے سے یا کسی اور وجہ سے چوٹ کے نشان تھے اور سوجن زیادہ تھی،ان کا دماغ دوسری جانب منتقل ہوچکا تھا،آپریشن کے بعد کچھ مثبت نتائج سامنے آنے لگے،آنکھوں کے پتلے بھی نارمل ہونے لگ گئے تھے،ان کے ساتھ آغا خان کے دو ڈاکٹروں نے کہا کہ انہیں منتقل کیا جائے کراچی میں ان کا علاج قدرے بہتر ہوگا،ان کی طبیعت سنبھلنے کے بعد 24 گھنٹے کے دوران حالت پھر بگڑنے لگی،ان کے اہل خانہ اور سیاسی قیادت کہہ رہے تھے کہ انہیں منتقل کیا جائے مگر ہم نے انہیں بتایا کہ منتقل کرنا اس وقت بہتر نہیں،عثمان کاکڑ کے اہل خانہ اور سیاسی قیادت انہیں ائیر ایمولنس کے ذریعے آغا خان لے گئے،طبیعت خراب ہونے پر ٹیسٹ کرنے سے پتا چلا کہ ان کی برین ڈیتھ ہوچکی ہے،ان کے اہل خانہ کے کہنے پر پوسٹ مارٹم بھی کیا جس کی رپورٹ سوشل میڈیا پر جاری ہوگئی ہے،پورسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق ان پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔



