
کراچی/کوئٹہ (این این آئی)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہاہے کہ سی پیک کے پہلے انفرااسٹرکچر فیز میں بلوچستان کو کچھ نہیں ملا،آنے والے دنوں میں گوادر پورٹ کے ذریعے ترقی کا نیا دور شروع ہوگا،بلوچستان میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے،انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے لیے ماسٹر پلان بنایا جارہا ہے،حکومت سندھ اور پنجاب نے بھی مدد کی پیشکش کی ہے۔ ان خیالات کا اظہاروزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کراچی کے مقامی ہوٹل میں سیمینارسے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔جام کمال نے کہاکہ بلوچستان کی حق تلفی کے ذمے دار ہم خود ہیں،ہمارے پاس اختیار اور وسائل دونوں موجود ہیں،ہمیں اپنی گورننس بہتر کرنے کی ضرورت ہے،یہی وسائل ماضی کی حکومتوں کے پاس بھی تھے۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک کے پہلے انفرااسٹرکچر فیز میں بلوچستان کو کچھ نہیں ملا،آنے والے دنوں میں گوادر پورٹ کے ذریعے ترقی کا نیا دور شروع ہوگا،ہمیں اپنے لوگوں کی قابلیت بڑھانی ہے تاکہ وہ ترقی کے ہمسفر رہ سکیں، جام کمال نے کہاکہ بلوچستان میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے،موجود حکومت سڑکوں کی تعمیر، سہولتیں، تعلیمی درسگاہوں کے قیام کے بڑے منصوبے پر عمل پیرا ہے،کسی بھی حکومت کا تجزیہ تقاریر کے بجائے عملی کام، گورننس اور ترقی پر ہونا چاہیے،سیاسی اتار چڑھاؤ آئندہ بھی جاری رہے گا،صرف 5 سال پورے نہیں کرنے کام بھی کرنا ہے، وزیراعلی بلوچستان نے کہاکہ بلوچستان میں اب کوئی ناراض نہیں ہے،صحت، تعلیم، پانی اور بنیادی سہولتوں سے محروم شہری ضرور ناراض ہیں،ہمیں انہی لوگوں کی محرومی کو دور کرنا ہے،انہوں نے کہاکہ ماسٹر پلان پر عمل کے لیے ہم نے وفاق سے پیسے نہیں مانگے،ماضی میں منصوبوں کے لیے رقم ہی مختص نہیں کی جاتی تھی بلوچستان کا سب سے بڑامسئلہ احتساب ،شفافیت اورتسلسل کا نہ ہونا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ تمام صوبے ملکر ہی سیاحت کو فروغ دے سکتے ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ حکومت، سرمایہ کاراورعوام کوفائدہ پہنچانا چاہتے ہیں، حکومت گڈ گورننس، قانون سازی میں بہتری کے لئے کام کررہی ہے، سی پیک کی وجہ سے بلوچستان سرمایہ کاروں کے لئے کھل گیا،ہمارے پاس وسائل زیادہ ہیں، آبادی کم ہے، پھربھی فائدہ نہیں اٹھایا گیا، البتہ رواں سال بلوچستان میں انفرااسٹرکچرپربھرپورکام ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئی بھی حکومت،ادارہ اور کمپنی موثر پالیسی اور مستحکم مالی پوزیشن کے بغیر نہیں چل سکتے، کاروباری دنیا میں تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، بزنس کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لئے ہمیں بھی ایسی پالیسیاں اپنانے کی ضرورت ہے جو بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے پرکشش ہوں اور وہ اپنے سرمائے کو محفوظ تصور کریں۔



