شانگلہ کے مختلف علاقوں میں موبائل سے سروسز کی سست روی انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کے خلاف شاہپور میں تاجروں کی ہڑتال اور عوام کا زبردست احتجاجی مظاہرہ

16

شانگلہ(رپورٹ/آفتاب حسین)شانگلہ کے مختلف علاقوں میں موبائل سے سروسز کی سست روی انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کے خلاف شاہپور میں تاجروں کی ہڑتال اور عوام کا زبردست احتجاجی مظاہرہ،شانگلہ میں کام کرنے موبائل فون کمپنیاں اپنے رویہ درست کریں۔مختلف علاقوں میں لگائے گئی ٹاورز میں الات لوٹ کے مطابق کریں شانگلہ ضلع بھر میں لگائے گئے ٹاورز ناکارہ ہو چکے ہیں اور وہ عوام کو اور صارفین کو سہولت کے بجائے زحمت دے رہے ہیں ہر ماہ مہنگے پیکج کرتے ہیں مگر اس پر فون کرنا یا انٹرنیٹ استعمال کرنا نہ ہونے کے برابر ہیں۔

شاہپور شانگلہ میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے واضح کیا کہ وادی میں موبائل فون سگنلز گزشتہ کئی مہینوں سے سست روی کا شکار ہے اور اس پر انٹرنیٹ نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ اس علاقے میں پی ٹی سی ایل کا بھی کوئی بندوبست نہیں ان مظاہرین نے واضح کیا کہ شانگلہ میں کام کرنے والے موبائل فون کمپنیاں اپنا قبلہ ٹھیک کریں اور عوام کو ان کی دیے گئے پیسوں کے مطابق سروس مہیا کرے انہوں نے ضلع انتظامیہ شانگلہ وفاقی وزیر انجینیئر امیر مقام سے مطالبہ کیا کہ شانگلہ میں کام کرنے والے بالخصوص ٹیلی نار،یو فون اور جیز کے حکام سے اس معاملے پر بات کریں۔مظاہرین نے واضح کیا کہ اگر یہ کمپنیاں شانگلہ میں اپنی لگائی گئی ٹاور سے صارفین کو سہولیات میسر نہیں کر سکتے تو وہ اپنی ٹاور یہاں سے اکھاڑ لیں۔مظاہرے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ پہاڑی سلسلوں پر لگے مختلف کمپنیوں کے ٹاورز میں بجلی مہیا کرنے کے لیے لگایا گیا جنریٹرز کا اندھن بھیجا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے بجلی لوڈ شیڈنگ کے بعد شانگلہ کے مختلف علاقوں کے ٹاورز کے سگنل بھی بند ہو جاتے ہیں۔

اس کے بھی تحقیقات ہونے چاہیے۔اس حوالے سے مختلف کمپنیوں میں کام کرنے والے ماہرین نے بتایا کہ ایک ٹاور میں مختلف الات لگائے جاتے ہیں جس میں بروقت 5000پانچ ہزار اور اس سے زائد لوگ بات کر سکتے ہیں مگر شانگلہ کے مختلف علاقوں میں کمپنیوں نے اپنے ٹاورز میں انسٹالیشن ہزاروں صارفین کے لیے کی ہوتی ہے جبکہ اس پر لوڈ ہو پورے علاقے کا ہوتا ہے اس لیے یہ سگنل نہیں دیتے احتجاجی مظاہرے اور سوشل میڈیا پر سخت مزاحمت کے باوجود یہ کمپنیاں اور ان کے حکام کہتے ہیں کہ ہم کسی کو جواب دے نہیں اور ہمیں موقف دینے سے معذرت اختیار کر لی۔۔

Comments are closed.