
کوئٹہ ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ نے گرین بس سروس کے حوالے کہا ہے کہ گرین بس سروس سابقہ حکومت کا پروجیکٹ ہے جس کے حوالے سے تمام تر اقدامات ٹینڈرنگ ، خریداری سابقہ حکومت کے دور میں ہوئی۔اس حوالے سے سابقہ حکومت نے بغیر کوئی پلان بنائے صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے بس کے روٹ اور دیگر معاملات میں عجلت سے کام لیتے ہوئے اس حوالے سے کوئی پالیسی نہیں بنائی۔شہر میں بسوں کوکس طرح چلائے گی کون اونرشپ لے گا۔ٹیکس کا نظام کیسا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ گرین بس سروس کی بسیں 29جون کو کوئٹہ لائی گئیں۔موجودہ حکومت کا عملی طور پر بسوں چلانے کے لئے فزبیلٹی اسٹیڈی وغیرہ پر کام جاری ہے اور بہت جلد عوام اس منصوبے سے مستفید ہوں گے حکومت بلوچستان جلد بازی اور سیاسی سکورنگ کے لیے کسی بھی منصوبے کو عوام پر تھوپنے کی قائل نہیں بلکہ تمام تر تیاریوں اور کام مکمل کرکے ان بسیں مل کو عوام کے لئے چلائی جائیگی تاکہ عوام ان سے بھرپور طور پر مستفید ہو سکے اور پچھلی حکومت نے ادھورا کام چھوڑ چلا ہے اگر ہوتا تو موجودہ حکومت ان کو چلتی مگر کچھ عناصر اس کو غلط رنگ دے رہی ہیں مگر جلد ہی عوام ان بسوں سے مستفید ہونگے جوکہ محض تنقید برائے تنقید کرنے والوں کے لیے ایک سبق ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں صوبہ مثالی ترقی کی طرف گامزن ہے موجودہ حکومت عوامی مسائل کو نہایت سنجیدگی سے سمجھتے ہوئے ان دیرپا حل کے لئے دن رات کوشاں ہے حالیہ سیلاب اور بارشوں ہو یا بیرون ممالک سے حساس نوعیت کے معاہدے، مخالفین بھی حکومت کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں انہوں نے بلوچستان حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا کہ موجودہ حکومت ان تمام مسائل کو حل کرنے کی نہ صرف صلاحیت رکھتی ہے بلکہ حل بھی کر چکی ہے۔ڈیمز کے حوالے سے ہونے والے نقصان مسلسل بارشوں کے باعث ہے مگر حکومت بلوچستان کی کارکردگی ایمرجنسی جیسی صورتحال میں مثالی رہی حکومت بلوچستان کو لا اینڈ آرڈر جیسے مسائل کا سامنا بھی رہا جس پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے اور حکومت کے ساتھ ساتھ ہماری بہادر افواج بھی ترقی کے اس سفر میں شانہ بشانہ ہیں صوبے میں ایمرجنسی حالات میں حکومت بلوچستان نے مستعدی سے کام کیا اور وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی بروقت ہدایات پر متاثرین کی ہر ممکن امداد کی گئی گی صوبے کے طول و عرض میں فری میڈیکل کیمپ لگائے گئے اور حکومت بلوچستان محض نعروں یا باتوں پر یقین نہیں رکھتی بلکہ ان پر عمل پیرا اور خدمت پر یقین رکھتی ہے۔




