
اسلام آباد : سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ دو روز میں آئی ایم ایف ڈیل پر اتفاق ہو جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم جون کے اختتام پر تیسرا بجٹ دیکھیں گے، اس پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہوگی اور اسے بلڈوز کردیا جائے گا۔
ایک اور ٹوئٹ میں شوکت ترین نے کہا آئی ایم ایف کی شرائط عام آدمی پر اضافی بوجھ ڈالیں گی اور مہنگائی مزید 35 فیصد بڑھے گی۔ انکا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف ڈیل سے معاشی نمو رکے گی، بے روزگاری بڑھے گی، غربت بڑھے گی اور برآمدات کم ہوں گی۔ اس سے ہماری ٹیکس وصولی بھی متاثر ہوگی۔ میرا سوال، اگر وہ سنبھال نہیں سکتے تو ہمیں کیوں بدلا؟




