یومِ الحاقِ پاکستان: کشمیر کا پاکستان سے تاریخی عہد
محمد کاشف، پی آئی ڈی، پشاور.
20 July, 2025
ہر سال 19 جولائی کو ہم یومِ الحاقِ پاکستان نہایت عقیدت، احترام اور تاریخی شعور کے ساتھ مناتے ہیں۔ یہ دن جموں و کشمیر کی سیاسی جدوجہد کا وہ سنہرا باب ہے جب 1947 میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے سرینگر میں ایک تاریخی قرارداد منظور کی، جس میں ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی خواہش اور فیصلہ کیا گیا۔
یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ کشمیری عوام کے دینی، ثقافتی اور نظریاتی رشتے کی عکاسی تھی جو انہوں نے پاکستان سے جوڑے ہوئے تھے۔ یہ فیصلہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر تھا، جو قیامِ پاکستان کا بنیادی ستون بھی ہے۔ کشمیری عوام کی اکثریت، جو مسلمان تھی، اپنے مذہبی تشخص، اقدار اور آزادی کے تحفظ کے لیے پاکستان کا حصہ بننا چاہتی تھی۔
یہ قرارداد قیامِ پاکستان سے بھی پہلے یعنی 14 اگست 1947 سے تقریباً ایک ماہ قبل منظور کی گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری عوام نے آزادی سے قبل ہی اپنی منزل کا تعین کر لیا تھا۔ پاکستان اور کشمیر کے درمیان نہ صرف جغرافیائی اور معاشی رشتے تھے بلکہ ایک نظریاتی ہم آہنگی بھی موجود تھی۔
بدقسمتی سے، کشمیری عوام کی اس جائز اور پرامن خواہش کو طاقت کے ذریعے دبایا گیا۔ ریاست کے مہاراجہ نے، اکثریتی عوام کی مرضی کے برخلاف، بھارت سے الحاق کا اعلان کر دیا، جو آج تک جاری تنازع کا نقطہ آغاز بن گیا۔
اس کے بعد سے کشمیری عوام کو جبروتشدد، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ان کی آزادی کی مسلسل پامالی کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود، کشمیری عوام کے دلوں میں آزادی کی تمنا اور پاکستان سے الحاق کا خواب آج بھی زندہ ہے۔ یومِ الحاقِ پاکستان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیریوں کی آواز، چاہے جتنی بھی دبائی جائے، ان کی آزادی کی تڑپ کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے مطالبے کو اجاگر کرتا رہا ہے۔
یومِ الحاقِ پاکستان کے موقع پر پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ یہ دن ہمیں ان قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو کشمیری عوام نے اپنی آزادی کے لیے دی ہیں، اور ہمیں یہ عہد دہرانے کا موقع دیتا ہے کہ ہم ان کی آواز بنیں گے، ان کا ساتھ دیں گے اور ان کے حق کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
یہ دن عالمی برادری کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑنے کا دن ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں، آبادیاتی تبدیلیوں، اور انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس لے۔
یومِ الحاقِ پاکستان کوئی عام دن نہیں بلکہ ایک مشترکہ مقدر کی علامت ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ 1947 کی قرارداد ایک خواب نہیں، ایک وعدہ ہے — جو آج بھی کشمیریوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ ان کی جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی اور ان شاء اللہ آزادی کی صبح ضرور طلوع ہو گی۔
Comments are closed.