ملیر میں جعلی صحافی کا خود پر حملہ: نام نہاد صحافی نادر وسیر نے خود کو گولی مار کر جھوٹا مقدمہ قائم کرنے کی کوشش کی

23

ملیر میں جعلی صحافی کا خود پر حملہ: نام نہاد صحافی نادر وسیر نے خود کو گولی مار کر جھوٹا مقدمہ قائم کرنے کی کوشش کی

کراچی ، ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں صحافت کی آڑ میں جھوٹ، بلیک میلنگ اور جعلسازی کا ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، خود کو صحافی ظاہر کرنے والے نادر وسیر نے اپنے ہی رشتے دار پر قاتلانہ حملے کا جھوٹا الزام لگانے کے لیے خود کو ٹانگ پر گولی مار دی۔

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ نادر وسیر بلال کالونی کے علاقے میں جووا سٹہ چلانے والے اپنے رشتے دار کو بلیک میل کر رہا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ اُس پر قاتلانہ حملے کا جھوٹا مقدمہ درج کرا کے اسے ذاتی انتقام کا نشانہ بنایا جائے۔

ذرائع کے مطابق نام نہاد صحافی نادر وسیر نے خود کو گولی مارنے سے قبل شاہ لطیف ٹاؤن کے ایک نجی اسپتال سے رجوع کیا وہاں کے ڈاکٹر سے ٹانگ کو سن کرنے کا کہا ڈاکٹر کے انکار کے بعد نام نہاد صحافی نادر وسیر نامعلوم جگہ کا رخ کیا جہاں خود کو ٹانگ میں گولی مارکر پولیس کو اطلاع دی کہ اس پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے

واقعے کے فوراً بعد پولیس نے شواہد اکٹھے کیے اور ابتدائی بیانات کی روشنی میں معاملے کو مشکوک قرار دے کر مزید تفتیش شروع کر دی۔ نادر وسیر کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

صحافی برادری نے واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے عناصر جو صحافت کے مقدس پیشے کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ کراچی کی صحافتی صحافی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ نادر وسیر جیسے جعلسازوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ صحافت کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش جاری ہے اور تمام حقائق سامنے لانے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی

Comments are closed.