
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کا اتحاد توڑنے کی سازشیں ہورہی ہیں لیکن ہم بچے نہیں، اللہ نے ہمیں عقل دی ہے، اگر اپنا نفع نقصان نہ سمجھ سکیں توہمیں سیاست کرنے کا کوئی حق نہیں، میرے آصف علی زرداری، میاں نوازشریف سمیت سب سے رابطے ہیں۔
پیپلزپارٹی نے اپنی سی ای سی کا اجلاس بلالیا ہے، مثبت جواب کی امید ہے،تجویز آرہی ہے کہ پہلے مرحلے میں صرف قومی اسمبلی سے استعفے دئیے جائیں،سندھ اسمبلی سے سب سے آخر میں مستعفی ہونے کی تجویز ہے
صحافیوں سے غیررسمی گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا پیپلزپارٹی نے اپنی سی ای سی کا اجلاس بلالیا ہے، مثبت جواب کی امید ہے۔تجویز آرہی ہے کہ پہلے مرحلے میں صرف قومی اسمبلی سے استعفے دئیے جائیں۔دوسرے مرحلے میں صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دینے کی تجویز ہے،سندھ اسمبلی سے سب سے آخر میں مستعفی ہونے کی تجویز ہے، مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا یہ طے ہے کہ ہمارے پاس احتجاجی تحریک کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔اگر صرف ایوانوں میں لڑنا ہے تو پھر پی ڈی ایم کیوں بنائی؟۔ہمیں اسمبلیوں میں جانے یا عوام میں جانے میں سے ایک راستہ منتخب کرنا ہے،
ہم نے عوام میں جانے کا فیصلہ کرلیا ہے، اب لانگ مارچ رمضان کے بعد ہونے کی امید ہے
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہم نے عوام میں جانے کا فیصلہ کرلیا ہے، اب لانگ مارچ رمضان کے بعد ہونے کی امید ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہم بھارت کے حوالے سے چیف آف ا ٓ رمی اسٹاف کے بیان کے حامی ہیں۔بھارت کے ساتھ جنگ لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں


