کے پی سینیٹ الیکشن: وزیراعلیٰ ہاؤس میں سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم پر ہنگامہ، تلخ جملوں کا تبادلہ

14

پشاور (نمائندہ خصوصی) — خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے سلسلے میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر وزیراعلیٰ ہاؤس میں صورتحال کشیدہ ہو گئی، جہاں وزیراعلیٰ کے حامیوں اور ناراض سینیٹ امیدواروں کے حمایتیوں کے درمیان تلخ جملوں اور نازیبا الفاظ کا تبادلہ ہوا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور ان کے قریبی وزراء سینیٹ کے چند امیدواروں کی دستبرداری پر بضد نظر آئے، جبکہ کئی ناراض امیدواروں نے اس دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کے حامی پارٹی ممبران اور سینیٹ امیدواروں کے حامی آمنے سامنے آگئے، جس کے نتیجے میں ماحول کشیدہ ہو گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہوئے سخت اور نازیبا الفاظ استعمال کیے، جس سے صورتحال مزید بگڑ گئی۔ اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ پارٹی ارکان دو واضح گروپوں میں تقسیم ہوگئے۔ تاہم بعض سینئر اراکین نے فوری مداخلت کرتے ہوئے بیچ بچاؤ کی کوشش کی اور فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔

باخبر ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اس ہنگامہ خیز اجلاس میں بعض سینیٹ امیدواروں کو کاغذات واپس لینے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ پارٹی کے اندر اس غیرمعمولی کشیدگی نے اعلیٰ قیادت کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

سینیٹ انتخابات کے قریب آتے ہی ٹکٹوں کی غیرمنصفانہ تقسیم پر پارٹی کے اندر پائی جانے والی ناراضگی کھل کر سامنے آ گئی ہے، جس کے سیاسی اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

Comments are closed.