سڈنی بیچ واقعہ پر بغیر شواہد کے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا گیا، پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے، غیر مصدقہ خبر چلانے پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار کون ہوگا؟ عطاءاللہ تارڑ

29

 اسلام آباد۔17دسمبر :وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطائ اللہ تارڑ نے سڈنی واقعہ پر پاکستان کو بغیر ثبوت مورد الزام ٹھہرانے کی مہم کو بدنیتی اور جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سڈنی بیچ واقعہ پر بغیر شواہد اور تصدیق کے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا گیا، بونڈائی واقعہ پر مستند چینلز نے ادارتی قوانین کا بھی خیال نہ رکھا، کچھ میڈیا اداروں نے دہشت گردوں کا تعلق بے بنیاد طور پر پاکستان سے جوڑا، پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے، ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے، بھارتی میڈیا پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے، واضح ہو چکا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے، غیر مصدقہ خبر چلانے پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار کون ہوگا؟ بتایا جائے کہ پاکستان پر الزام تراشی کا مداوا کیسے کیا جائے گا؟ جھوٹی خبر پھیلانے والوں کو باضابطہ معافی مانگنی چاہئے۔ بدھ کو یہاں بین الاقوامی میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سڈنی کے بونڈائی بیچ پر پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کے حوالے سے تقریباً 48 گھنٹوں تک مس انفارمیشن مہم چلائی گئی، دنیا کے معتبر اور قابل اعتماد میڈیا ادارے بھی اس مہم کا حصہ بنے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے کو اجاگر کرنے کا مقصد کسی کو بدنام کرنا یا کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ محض یہ اجاگر کرنا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد کسی ثبوت یا معتبر ذرائع کے بغیر کسی ملک کو غیر منصفانہ طور پر ذمہ دار ٹھہرا دیا جاتا ہے جو تصدیق اور تحقیق کے بنیادی صحافتی اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڈنی واقعہ افسوسناک ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ صدر مملکت، وزیراعظم اور حکومت پاکستان نے سڈنی واقعہ کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان خود برسوں سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ایسے سانحات کا دکھ اور کرب کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آسٹریلیا اور اس کے عوام کے درد کو محسوس کرتا ہے اور ان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آسٹریلیا کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی شہری نے جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور کو قابو کیا جس کے باعث متعدد قیمتی جانیں بچ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے فوری بعد بعض میڈیا ذرائع نے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں میں سے ایک کا تعلق پاکستان سے تھا جبکہ دوسرا آسٹریلیا میں پیدا ہوا تاہم اس دعوے کی کوئی دستاویزی تصدیق یا شواہد موجود نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر واضح ہے کہ یہ منظم مہم پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے دشمن ممالک کی جانب سے شروع کی گئی جس کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا اور پاکستان کے خلاف بے بنیاد تاثر قائم کرنا تھا۔ اسرائیل اور بھارت میں یہ مہم سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی جاری رہی جو کہ انتہائی افسوسناک ہے کیونکہ پاکستان ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر رہا ہے اور اس نے اس جنگ میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان آج بھی دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڈنی واقعہ بالکل اسی دن پیش آیا جب ہم 16 دسمبر کے شہدائ آرمی پبلک سکول پشاور کے بچوں کو یاد کر رہے تھے، اسی دن دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں معصوم اور کمسن بچوں سمیت قیمتی جانوں کا نقصان ہوا اور یہ سانحہ آج بھی پوری قوم کے دلوں پر نقش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے بچوں نے بھی دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں قربانیاں دی ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسے موقع پر جب ہم اپنے شہدائ کو یاد کر رہے تھے پاکستان کے خلاف ایک جھوٹی اور بدنیتی پر مبنی مہم چلائی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کے کوئی شواہد یا معتبر ذرائع موجود نہیں تھے کہ حملہ آوروں میں سے کسی کا تعلق پاکستان سے تھا اور یہ مہم گمراہ کن معلومات پر مبنی تھی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ دنیا کے انتہائی معتبر میڈیا ادارے بھی اس گمراہ کن مہم کا شکار ہو گئے۔ ایسے نیوز ادارے جو عالمی سطح پر کام کرتے ہیں، ان کے پاس ایڈیٹوریل بورڈ، معلومات کی تصدیق کا نظام موجود ہوتا ہے جس کے ذریعے معلومات کی جانچ پڑتال اور ایڈیٹوریل کنٹرول کیا جاتا ہے، اس کے باوجود یہ میڈیا ادارے صحافت کے بنیادی اصولوں پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کی پولیس نے کل ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں واضح کیا گیا کہ حملہ آور تلنگانہ حیدر آباد سے تعلق رکھتا ہے اور چند ہی لمحوں میں تصدیق ہوگئی تھی کہ اس کا پاسپورٹ بھارتی سفارت خانے سڈنی سے جاری ہوا تھا اور اس نے اسی بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر بھی کیا جس کی فلپائن کے حکام نے تصدیق کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ مہم انتہائی افسوسناک ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ایک ویڈیو بھی میڈیا کو دکھائی جس میں دکھایا گیا کہ یہ مہم کس طریقے سے چلائی گئی اور کون سے میڈیا ادارے اس میں شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک منظم مہم تھی جو بہت تیزی سے پھیلی۔ نہ کوئی ایڈیٹوریل بورڈ، نہ کوئی انتظامیہ اور نہ ہی کوئی یہ رپورٹر پوچھ سکا کہ یہ معلومات کہاں سے آ رہی ہیں، ایک نیوز ادارے نے بغیر کسی ثبوت کے دعویٰ کر دیا کہ دونوں حملہ آور لاہور، پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دہشت گردی کے واقعہ کی خبروں میں دعویٰ کیا جائے کہ حملہ آور کسی مخصوص ملک یا علاقے سے تعلق رکھتا ہے جبکہ اس دعوے کی کوئی بھی تصدیق شدہ دلیل یا ثبوت موجود نہ ہو۔ یہ بات دہشت گردی کے شکار ہونے کے ناطے ہمیں انتہائی مایوس کرتی ہے۔ پاکستان ہمیشہ اور ہر صورت میں دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر مظہر کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے فوری ردعمل نہیں دیا کیونکہ ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے پہلے معلومات کی تصدیق کرنا ضروری تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کو کیسے معلوم نہیں تھا کہ یہ افراد بھارت سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے پاس بھارتی پاسپورٹ تھا اور وہ بھارتی شہری تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک کے پاس قومی ڈیٹا بیس ہوتا ہے، چہرے کی شناخت کے ذریعے یہ آسانی سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون کس ملک سے تعلق رکھتا ہے۔ ریٹینا سکین، فنگر پرنٹس، چہرے کی شناخت سمیت جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی کے باوجود کسی بھی ڈیٹا بیس سے یہ واضح ہو جانا چاہئے تھا کہ وہ افراد کس ملک کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم چلائی گئی کہ ایک حملہ آور کا والد پاکستانی شہری ہے، صرف اس بنیاد پر کہ اس کا نام ایک مخصوص علاقے میں عام ہے، نام ہونا کسی ملک پر الزام لگانے کے لئے کافی نہیں ہے۔ انہوں نے سڈنی واقعہ کی تحقیقات کے دوران آسٹریلوی حکام کے پیشہ ورانہ رویے کو سراہا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بعض میڈیا اداروں نے بغیر تصدیق کے پاکستان پر الزامات نہیں لگائے اور معلومات کی تصدیق کا انتظار کیا، اب واضح ہو چکا ہے کہ حملہ آور بھارت سے تعلق رکھتا تھا، بھارت سے ہجرت کر کے آیا، اس کے پاس بھارتی پاسپورٹ تھا اور اسی پاسپورٹ پر سفر کیا جبکہ بھارتی سفارت خانہ، سڈنی نے یہ پاسپورٹ جاری کیا تھا۔ وفاقی وزیر نے سوال کیا کہ پاکستان کو ان جعلی خبروں اور غلط معلومات کے ذریعے پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟ سڈنی واقعہ سے پہلے کی پوزیشن پر واپس کیسے جائیں؟ کیا قانونی کارروائی کی جانی چاہئے؟ کیا معافی طلب کی جانی چاہئے یا محض یہ پروپیگنڈا تاریخ کا حصہ بن جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گردی کے واقعات ہوئے، کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کا قتل ایک مثال ہے۔ ہم نے سرحد پار ہونے والی ٹارگٹڈ ہلاکتوں کے واقعات بھی دیکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سڈنی واقعہ سے واضح ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اور وہ خود متعدد مواقع پر شواہد کے ساتھ واضح کر چکے ہیں کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھارتی فنڈنگ اور سرپرستی کار فرما ہے جس کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ اس کے علاوہ جب بھی افغان سرزمین پاکستان کے اندر حملوں کے لئے استعمال ہوئی ہے، وہاں بھی بھارتی روابط سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ حکومت آج کل بھارت کے ساتھ قریبی روابط بڑھا رہی ہے، اس کے پیچھے آخر کیا وجوہات ہیں؟ کیا ان کے درمیان دوطرفہ تجارتی تعلق یا باہمی تعاون کے امکانات موجود ہیں جنہیں وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس پاکستان میں بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ بھارت نہ صرف پاکستان میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتا رہا ہے بلکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی ملوث رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس جنگ میں ہم نے بے شمار جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے فوجی، جوان افسران، بچوں، سکیورٹی اہلکاروں اور پولیس سمیت ہر طبقے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں۔ ہم اس جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ ہم دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ اتنی قربانیوں کے بعد پاکستان کے خلاف ایک جھوٹی مہم چلائی جانا واقعی انتہائی افسوسناک ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارتی میڈیا اداروں نے بغیر تصدیق یہ خبریں نشر کیں جبکہ ان کا اپنا ملک دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے اور ہم دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں، یہی فرق بھارت اور پاکستان کے درمیان ہے۔ بھارت زیادہ تر دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے رہا ہے اور ہم بار بار اس کے شواہد پیش کرتے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بعض میڈیا اداروں نے معلومات کی تصدیق کئے بغیر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی اب جبکہ ہمیں معتبر معلومات اور ناقابل تردید شواہد حاصل ہو چکے ہیں جن میں بھارتی پولیس کی پریس ریلیز، بھارتی پاسپورٹ اور فلپائن کے حکام کی تصدیق شامل ہے کہ حملہ آور بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن گیا تو پاکستان پر لگائے گئے الزامات کی تلافی کیسے کی جائے؟ کہاں سے کہا جائے کہ معذرت، ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا؟ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم اس معاملے کے حوالے سے انتہائی حساس ہیں کیونکہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانیں قربان کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر دن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کچہری میں پیش آنے والے واقعہ کے حملہ آوروں اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کے حق میں کھڑا رہا ہے، پاکستان ہمیشہ امن کو فروغ دے گا اور دہشت گردی کے واقعات کی سخت مذمت کرے گا،انہوں نے کہا کہ میڈیا کو بھی چاہئے کہ وہ معلومات کی تصدیق کے بعد سوشل میڈیا اور ٹیلی ویڑن کے ذریعے دنیا تک پہنچائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہردیپ سنگھ نجر کا قتل بھارتی ریاست کے اصل چہرے کو ظاہر کرتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے انڈین ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک مسلم خاتون کا حجاب اتارنے کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ سے بھارت میں انتہا پسندی پر مبنی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کے پاس دنیا کو دکھانے کے لئے مثبت بیانیہ یا کہانی نہیں بلکہ بھارت ہر قسم کی انتہا پسندی کو فروغ دے رہا ہے۔ بھارت کی حکومت انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دینے، اقلیتوں اور ان کے حقوق کو دبانے پر یقین رکھتی ہے۔

Comments are closed.