کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکرٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ کی دعوت پر آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافیوں پر مشتمل ایک وفد نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا۔

23

اسلام آباد:
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکرٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ کی دعوت پر آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافیوں پر مشتمل ایک وفد نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا۔
وفد کی آمد پر کنوینر کل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی، سیکرٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ اور حریت کانفرنس کی میڈیا ٹیم نے ان کا پُرتپاک اور والہانہ استقبال کیا۔

استقبال کے بعد ایک غیر معمولی اور بامقصد مشاورتی نشست منعقد ہوئی، جس کی
صدارت کنوینر غلام محمد صفی نے کی۔ نشست کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ گھمبیر و تشویشناک صورتحال، بھارتی ریاستی جبر، میڈیا بلیک آؤٹ اور اس تناظر میں آزاد کشمیر و پاکستان کے میڈیا کے کردار پر تفصیلی تبادلۂ خیال تھا۔

اس موقع پر صحافی برادری سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ بھارت اور اس کا ریاستی و کارپوریٹ میڈیا 24 گھنٹے منظم انداز میں جھوٹا بیانیہ دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد کشمیر کے مسلم تشخص کو مٹانا اور خطے کی آبادیاتی ساخت تبدیل کر کے اسے ہندو ریاست میں بدلنا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارتی قابض افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری غیر قانونی، غیر آئینی اور انسانیت کش پالیسیوں کے خلاف ہمارا میڈیا اس سطح پر مؤثر اور تسلسل کے ساتھ آواز بلند نہیں کر پا رہا جس کی صورتحال متقاضی ہے۔

مشتاق احمد بٹ نے واضح کیا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا ایک نمائندہ، متفقہ اور فعال فورم ہے، تاہم بدقسمتی سے اس کی سیاسی، سفارتی اور عوامی سرگرمیوں کو بھی وہ کوریج نہیں مل رہی جس کی اہمیت مسلمہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آزاد کشمیر اور پاکستان کا میڈیا مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی حقیقی آواز بنے اور وہاں ہونے والے مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرے۔

نشست سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی عابد عباسی نے تجویز دی کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کو میڈیا کے ساتھ باقاعدہ مشاورتی پروگرامز اور مکالمے کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر ایسی سخت پالیسیاں مسلط کیں جن کے تحت صحافت کو عملاً پابند اور مفلوج کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے حوالے سے ایک جامع میڈیا پالیسی مرتب کی جائے، کشمیری ڈائسپورہ کو منظم و مضبوط کیا جائے، انہیں ایک پلیٹ فارم پر لا کر کشمیر کاز کے لیے مؤثر کردار سونپا جائے۔

صدر کشمیر جرنلسٹ فورم عرفان سدوزئی نے اس اہم نشست کے انعقاد پر حریت کانفرنس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایک نہایت حساس اور اہم قومی مسئلہ ہے جس پر سنجیدہ، مستقل اور مربوط مکالمہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر عوام بالخصوص نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ جوڑنا ہے تو پاکستان کی سیاسی جماعتیں اسے اپنے انتخابی منشور کا مستقل حصہ بنائیں۔ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر معیاری فلمیں، ڈرامے اور دستاویزی پروگرام تیار کرنے چاہئیں تاکہ عوامی شعور اجاگر ہو۔

سینئر صحافی محمد لطیف ڈار نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک طاقتور ہتھیار بن چکا ہے، جسے منظم اور مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں رونما ہونے والے ہر واقعے کو مختلف عالمی زبانوں میں ترجمہ کر کے بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جانا چاہیے تاکہ بھارتی پروپیگنڈے کا مؤثر توڑ کیا جا سکے۔

جنرل سیکریٹری یکجا مقصود منتظر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنا ہماری قومی، ملی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ بھی کر رہا ہے، اسے میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سینئر صحافی سردار نثار تبسم نے کہا کہ موجودہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے، جس پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے قومی میڈیا کے ساتھ مضبوط اور مربوط روابط استوار کیے جائیں تاکہ کشمیر کا بیانیہ مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

اجلاس کے اختتام پر اپنے صدارتی خطاب میں کنوینر کل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے کہا کہ اس وقت پاکستان واحد ملک ہے جو کھل کر اور مسلسل مسئلہ کشمیر کی ترجمانی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ دیگر دوست ممالک کو بھی اس مؤقف پر اپنا ہمنوا بنائے، اور جہاں کہیں بھی کمزوریاں یا کوتاہیاں ہیں، انہیں دور کیا جائے۔

کنونیر غلام محمد صفی نے کہا کہ ہمیں واضح طور پر یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون ۔ بھارت کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا غاصب ہے، جبکہ پاکستان اس جدوجہد کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کر رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو محض دو ملکوں کا تنازعہ یا صرف انسانی حقوق کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں، اگرچہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں ہو رہی ہیں، مگر ان کی بنیادی وجہ بھارت کا ریاست جموں و کشمیر پر غیر قانونی اور غیر آئینی قبضہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی ناجائز قبضے کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں کشمیری عوام پر بدترین مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، جنہیں عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل نہ کیا گیا تو خطے میں ایٹمی تصادم کا خطرہ کسی بھی وقت ایک سنگین حقیقت بن سکتا ہے۔

کنوینر نے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کشمیر کا نمائندہ فورم ہے اور میڈیا کے میدان میں رہنمائی کے لیے صحافی برادری کی تجاویز اور مشاورت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی جب چاہیں بلا جھجک حریت کانفرنس سے رابطہ کریں، اور جب حریت قیادت کو ضرورت محسوس ہوگی، وہ خود میڈیا کے پاس پہنچے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حریت کانفرنس اور میڈیا کے درمیان باہمی تعاون، مشاورت اور رابطے کو مزید مضبوط اور منظم کیا جائے گا۔

آخر میں دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کو مؤثر، ذمہ دارانہ اور عالمی معیار کے مطابق اجاگر کرنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کی جائے گی اور اس سلسلے میں باقاعدہ رابطے اور مشاورتی نشستوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
اس اجلاس میں سنیر و معروف صحافی کاشف میر، چوہدری رفیق،زاہد اشرف ، شیخ عبد الماجد منظور احمد ڈار، امتیاز وانی ،عبد المجید لون،سید گلشن،ظہور صوفی،عمر بٹ اور دیگر افراد نے شرکت کی

Comments are closed.