بلوچستان

ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمٰن کے ہمراہ ڈاکٹر ملیحہ زیبہ خان، جو نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد سے ہیں

گوادر: ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمٰن کے ہمراہ ڈاکٹر ملیحہ زیبہ خان، جو نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد سے ہیں اور ایچ ای سی کے فنڈ سے چلنے والے “بلیو اکانومی” منصوبے کی پرنسپل انویسٹی گیٹر ہیں، نے گوادر کی ماہی گیر برادری سے تفصیلی ملاقات کی۔اس ملاقات میں ماہی گیر برادری کے مرد و خواتین نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں درپیش مسائل، چیلنجز اور ضروریات سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر ملیحہ زیبہ خان نے ان کی آرا اور تجربات کو بڑی دلچسپی سے سنا اور ان پہلوؤں پر گفتگو کی جن پر مستقبل میں مزید تحقیقی و ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر ملیحہ زیبہ کی تحقیقی ٹیم کے اراکین، جن میں ریسرچ اسسٹنٹس تحریم طارق، جویریہ عتیق اور امنہ مریم شامل تھیں، نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔پروگرام میں ماہی گیری کے مختلف شعبوں پر سیر حاصل بحث کی گئی، جن میں مائیکرو لیول پر تعلیمی ضروریات، فِش فارمنگ، فِش پروسیسنگ، فریزر سہولیات، ٹیکنیکل اسکلز، جال سازی اور اس کی مرمت جیسے اہم موضوعات شامل تھے۔ اس کے علاوہ چھوٹے پیمانے پر کاروباری مواقع اور خواتین کی شمولیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔شرکاء نے مطالبہ کیا کہ گہرے سمندر میں غیر قانونی فشنگ اور ٹرالنگ پر سختی سے پابندی عائد کی جائے۔ روایتی اور غیر روایتی ماہی گیری کے درمیان توازن، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، اور سمندری ماحولیات کے تحفظ پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ماہی گیروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنی پالیسیاں اپ ڈیٹ کرے تاکہ ماہی گیر برادری کو درپیش مشکلات کا مؤثر حل نکل سکے۔ شرکاء نے سوشل اور فنانشل سیکیورٹی کی فراہمی کو بھی اولین ترجیح دینے پر زور دیا، اور اس بات پر اتفاق کیا کہ بین الاقوامی معیار اور ایس او پیز کو فالو کرنا وقت کی ضرورت ہے۔اجلاس میں ماہی گیر برادری نے مچھلی منڈیوں اور خریداری کرنے والی کمپنیوں کے استحصالی رویوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ حکومتی سطح پر اس کا نوٹس لیا جائے۔

Related Articles

Back to top button