ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس آج ڈپٹی کمشنر آفس لورالائی میں منعقد ہوا
لورالائی 17جولائی :۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس آج ڈپٹی کمشنر آفس لورالائی میں منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں تعلیمی شعبے کی بہتری، درپیش مسائل اور سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نورعلی کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد مدثر،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن فیسر فیمیل فوزیہ درانی،ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر محمد طارق ،یونیسف کے منیجر عیبد خان ترین،بی آر ایس پی کے منیجر مجیب اللہ کاکڑ،ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر فیمیل قمر سلطانہ،پرنسپل گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول سردار رشید خان جوگیزئی، سمیت محکمہ تعلیم سے وابستہ دیگر افسران نے شرکت کی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ٓٓ آفیسر محمدمدثر نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کے وژن اور خصوصی ہدایات پرضلع لورالائی نے تعلیم میدان میں ایک تاریخی کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے سب سے پہلے طویل عرصے سے بند تمام 105اسکولوں کو دوبارہ فعال کردیا ہے اور اس کےساتھ ہی ڈپٹی کمشنر لورالائی نے اسکولوں کی بحالی وسائل کی فراہمی اور انتظامی معاملات میں کلیدی کردارادا کیا ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسکولوں کی بحالی میں شفافیت اور میرٹ کو ترجیح دی گئی اساتذہ کی تعیناتی کنٹریکٹ ٹیچرز ایس بی کے تحت کی گئی ہے تاکہ اسکول میں تدریسی عمل کو فعال رکھا جاے سکے انہوں نے کہاکہ تعلیم کی اہمیت پر زور دیا اور معیاری تعلیم ہی قوم کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے۔ ہم سب کو مل کر تعلیم کے فروغ اور اس شعبے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔اجلاس کے دوران ضلعی تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی کمی، اساتذہ کی کمی، اسکولوں کی انفراسٹرکچر، اور طلبہ کے لیے سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ شرکاءنے تعلیمی نظام میں بہتری لانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں، جنہیں ضلعی انتظامیہ نے سنجیدگی سے نوٹ کیا اور ان پر عمل درآمد کی یقین دہانی کروائی۔ڈپٹی کمشنر نے اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیم کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی، اور اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں سے قریبی رابطہ رکھا جائے گا تاکہ زمینی سطح پر مثبت تبدیلی ممکن بنائی جا سکے۔



