
حکومت نے سینیئر صحافی محسن بیگ کے گھر پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے گزشتہ روز مارے گئے چھاپے کو غیر قانونی قرار دینے والے اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی کی اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی جس کے بعد انہوں نے جیو نیوز سے گفتگو کی۔
نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ وزیراعظم نےکہا ہے کہ کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں، محسن بیگ نے ادارے کے اہلکاروں پر فائرنگ کی، ایڈیشنل سیشن جج نے اپنے فیصلے میں جو لکھا ہے وہ مینڈیٹ سے تجاوز ہے، جب بندہ آپ کے سامنے آگیا تو آپ کا مینڈیٹ ختم ہوگیا۔
نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج کےخلاف انتظامی طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دیں گے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف کارروائی کی درخواست کریں گے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ جج کی آبزرویشنز متعصبانہ ہیں جو ان کا مینڈیٹ نہیں تھا، چیف جسٹس کو انتظامی سطح پر بھیجی جانے والی شکایت جج کےخلاف ریفرنس ہوگی۔
معاملہ کیا ہے؟
خیال رہے کہ وفاقی وزیر مراد سعید کی شکایت پر محسن بیگ کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ نے بدھ 16 فروری کی صبح 9 بجے مقدمہ درج کیا۔
چند منٹ بعد ہی ایف آئی اے کی ایک ٹیم اسلام آباد میں محسن بیگ کے گھر چھاپہ مارنے جا پہنچی اور وہ بھی بغیر کسی وارنٹ کے۔
اس دوران ایف آئی اے ٹیم کی محسن بیگ ، ان کے بیٹے حمزہ بیگ اور ان کے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ہاتھا پائی ہوئی اور ایک فائر بھی ہوا۔
محسن بیگ کے بیٹے نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا انہیں ابتدائی طور پر ایسا لگا کہ ان کے گھر چور آگئے ہیں، میرے والد کو گرفتار کرلیا، گھسیٹ کرلے گئے۔
سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کے لے جانے پر اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی جبکہ اسی اثناء میں پولیس نے ایف آئی اے کے ہمراہ محسن بیگ کو تھانہ مارگلہ منتقل کیا جہاں ان کے خلاف ایف آئی اے ٹیم پر حملہ کرنے کے الزام میں دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا۔
دہشتگردی کا مقدمہ درج ہونے کی وجہ سے محسن بیگ کو انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جس نے ان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔




